World
برکسٹ ریفرنڈم میں روسی مداخلت، ایم آئی فائیو کی تصدیق
برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی فائیو کے سربراہ نے تصدیق کی ہے کہ روس نے 2016 کے برکسٹ ریفرنڈم میں مداخلت کی کوشش کی تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کوششوں کا حتمی نتیجہ اور اثر بہت محدود رہا۔
برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی فائیو کے سربراہ نے ایک اہم بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ روسی حکومت نے سال 2016 میں ہونے والے تاریخی برکسٹ ریفرنڈم کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب برطانوی سیاستدان اور رہنماء اینڈی برنہم نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ماسکو نے باضابطہ طور پر برطانوی عوام کے فیصلے کو بدلنے یا اس میں مداخلت کرنے کے لیے خفیہ اقدامات کیے تھے۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق اس طرح کی کوششیں جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کے لیے کی جاتی ہیں۔
اس حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے ایم آئی فائیو کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ روسی ریاست کی طرف سے برکسٹ کے دوران مداخلت کے شواہد موجود ہیں اور کوششیں بھی کی گئیں، لیکن ان کے مجموعی اثرات بہت زیادہ محدود اور کمزور رہے ہیں۔ برطانوی اداروں نے اس طرح کی کسی بھی بڑی اور فیصلہ کن کارروائی کو ناکام بنانے کے لیے بروقت اقدامات کیے تھے، جس کی وجہ سے روس اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کے انتخابات اور اہم ریفرنڈمز میں مبینہ بیرونی مداخلت ہمیشہ سے ایک سنجیدہ چیلنج رہی ہے۔
اینڈی برنہم کے حالیہ بیانات کے بعد برطانوی سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر اس بحث نے جنم لیا ہے کہ قومی سلامتی اور جمہوری اداروں کو غیر ملکی اثر و رسوخ سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔ برطانوی حکومت اور سکیورٹی ایجنسیاں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی سائبر یا سیاسی مداخلت کو روکنے کے لیے دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر بین الاقوامی سیاست میں انٹیلی جنس اور سائبر وارفیئر کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے جہاں ممالک اندرونی معاملات کو متاثر کرنے کے لیے نئے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔