LIVE
Loading Breaking News...

غزہ پر اسرائیلی حملے، تخفیفِ اسلحہ معاہدے کے بعد 13 جاں بحق

News Image
حماس کی جانب سے تخفیفِ اسلحہ کے معاہدے پر رضامندی ظاہر کرنے کے باوجود غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں جن کے نتیجے میں کم از کم تیرہ فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد عسکری کارندوں کو نشانہ بنانا تھا۔
غزه میں جاری کشیدگی کے دوران موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کی جانب سے ایک اہم تخفیفِ اسلحه کے معاہدے پر رضامندی ظاہر کیے جانے کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ نہیں روکا جا سکا۔ تازہ ترین کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ کے مختلف حصوں میں کم از کم تیرہ فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ان حملوں نے خطے میں امن کی بحالی کی تمام امیدوں کو وقتی طور پر شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اسرائیلی دفاعی حکام اور فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ غزہ سٹی، خان یونس اور دیر البلاح میں کی جانے والی یہ بمباری اور فضائی حملے مخصوص عسکری کارندوں اور ان کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔ فوج کا کہنا ہے کہ جب تک سکیورٹی خطرات برقرار ہیں، ان کے اہداف کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی، چاہے زمینی اور سفارتی سطح پر دیگر تبدیلیاں کیوں نہ آ رہی ہوں۔ دوسری جانب بین الاقوامی برادری اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب حماس کی طرف سے تخفیفِ اسلحه کے معاملے پر لچک دکھائی گئی تھی اور امن معاہدے کے لیے راہیں ہموار ہو رہی تھیں، اس قسم کے مہلک حملے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔ عام شہریوں کے جاں بحق ہونے سے انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ علاقے میں موجود امدادی تنظیموں اور طبی عملے کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ اسپتالوں میں زخمیوں کی بھرمار ہے اور ادویات کی کمی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ عالمی رہنماؤں نے فوری طور پر فائر بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔