World
روس میں جاپانی صحافی جاسوسی کے الزام میں گرفتار
روسی فیڈرل سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے ملک کے دور دراز علاقے سخالن جزیرے سے ایک جاپانی رپورٹر کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار صحافی کو مزید تفتیش کے لیے دارالحکومت ماسکو منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
روسی فیڈرل سکیورٹی سروس یعنی ایف ایس بی (FSB) نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ملک کے مشرق بعید میں واقع سخالن جزیرے سے ایک جاپانی رپورٹر کو جاسوسی کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔ روسی سکیورٹی اداروں کے مطابق اس مشکوک شخص کو انتہائی حساس نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا جس کے بعد فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ابتدائی گرفتاری کے بعد ملزم کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے فوری طور پر دارالحکومت ماسکو منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ روسی حکام کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں لیکن اس گرفتاری کو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں ایک نئے تنازع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب جاپانی حکام کی طرف سے اس گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہا تھا یا اس پر عائد کردہ الزامات میں کوئی صداقت موجود ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور مغربی ممالک کے علاوہ جاپان کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہگی کا شکار ہیں۔ روس کی سکیورٹی ایجنسیز حالیہ چند برسوں کے دوران ملک کے اندر غیر ملکی خفیہ سرگرمیوں اور جاسوسی کے خلاف انتہائی سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں اور اس معاملے میں بھی ایف ایس بی نے کسی قسم کی نرمی نہ برتنے کا اشارہ دیا ہے۔ ماسکو منتقل کیے جانے کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ جاپانی سفارت خانے کے حکام کو بھی جلد از جلد گرفتار رپورٹر تک قونصلر رسائی دی جائے گی تاکہ اس پورے معاملے کی حقیقت کو واضح کیا جا سکے اور جاپانی شہری کے بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔