World
کمبرلی گلفائل کا بطور امریکی سفیر یونان استعفیٰ اور الزامات کی تردید
امریکہ کی یونان میں تعینات سفیر کمبرلی گلفائل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے جبکہ انہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے بدسلوکی اور مالی بدعنوانی کے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور نئی پیش رفت کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
امریکہ کی یونان میں تعینات سفیر کمبرلی گلفائل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، تاہم انہوں نے اپنے اوپر عائد کردہ بدسلوکی اور مالی بدعنوانی کے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب ان کے خلاف سنگین نوعیت کی شکایات سامنے آئیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی پر غور کیا جا رہا تھا۔ وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر معتبر اداروں کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر ایک ڈونر سے مالی معاونت کے معاملے میں ضابطے کی خلاف ورزی کی۔
دوسری جانب، کمبرلی گلفائل نے ان تمام خبروں اور الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا دامن صاف ہے اور انہوں نے ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہ کر فرائض انجام دیے۔ ان کے استعفیٰ کے بعد واشنگٹن اور ایتھنز کے سفارتی حلقوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف سیاسی شخصیات کی جانب سے اس واقعے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی سفارت کاری کے اندرونی معاملات پر پہلے ہی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ موصول ہونے والی رپورٹس اور نامناسب رویے کی شکایات کا جائزہ لے رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس استعفیٰ سے ٹرمپ انتظامیہ کو سفارتی سطح پر ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ یونان جیسا اہم اتحادی ملک اس نوعیت کے تنازعات کے مرکز میں آ گیا ہے۔
آنے والے دنوں میں اس پورے اسکینڈل کے مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے، جبکہ محکمہ خارجہ کی جانب سے اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ یونان میں امریکہ کے سفارتی امور کو بلا تعطل کیسے آگے بڑھایا جائے۔ کمبرلی گلفائل کے استعفیٰ کے بعد نئے سفیر کی تقرری کا عمل بھی جلد شروع کیے جانے کا امکان ہے تاکہ دو طرفہ تعلقات متاثر نہ ہوں۔