Pakistan
پاکستان کو عالمی بorrowers platform کی صدارت، سوشل میڈیا پر چرچے
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کا اپنا قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے، ملک کو یو این حمایت یافتہ عالمی بorrowers' platform کی صدارت سونپ دی گئی ہے۔ اس پیش رفت پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے طرح طرح کے تبصرے اور طنزیہ ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد: ایک عجیب اور دلچسپ سفارتی و معاشی پیش رفت میں، پاکستان کو اقوام متحدہ کے تعاون سے چلنے والے عالمی 'بorrowers' Platform' کی صدارت کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان خود ملکی اور بیرونی قرضوں کے بھاری بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور حکومت معیشت کو سہارا دینے کے لیے مسلسل نئے قرضے اور ری فنانسنگ کے اقدامات کر رہی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں معاشی ٹیم ملک کے شارٹ ٹرم بیرونی قرضوں کو ری فنانس کرنے اور رول اوور رسک کو کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
اس تقرری کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے زبردست اور طنزیہ ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بہت سے صارفین کا کہنا ہے کہ جو ملک خود عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے قرضے لینے کے لیے مسلسل مذاکرات کر رہا ہے، اسے ایسے پلیٹ فارم کی صدارت ملنا جہاں قرض لینے والے ممالک کے مسائل پر بات کی جائے، ایک تلخ مزاح کی طرح ہے۔ سوشل میڈیا پر اس خبر کے وائرل ہوتے ہی میمز اور طنزیہ تبصروں کا تانتا بندھ گیا، جہاں صارفین نے ملکی معاشی صورتحال کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
دوسری جانب، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ملکی معیشت کی بہتری کے لیے مختلف بین الاقوامی فورمز پر سرگرم ہیں۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے ایشیائی بانڈز کے ذریعے فنڈنگ کو متنوع بنانے اور کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری لانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جی 24 کے اجلاس کے دوران بھی وزیر خزانہ نے ترقی پذیر ممالک کی اجتماعی آواز اور اثر و رسوخ کو مضبوط کرنے پر زور دیا تاکہ عالمی مالیاتی نظام میں ان کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کی موجودگی اور قیادت ملک کے سفارتی مؤقف کو اجاگر کرنے کے لیے اہم ہو سکتی ہے، لیکن اصل چیلنج ملکی سطح پر معاشی اصلاحات کا نفاذ ہے۔ جب تک ملک اندرونی طور پر مالیاتی نظم و ضبط قائم نہیں کرتا اور ٹیکس نیٹ کو وسیع نہیں کرتا، اس طرح کے عہدے محض علامتی حیثیت ہی رکھیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے پائیدار معاشی پالیسیوں پر توجہ مرکوز کرے تاکہ عوام کو مہنگائی اور قرضوں کے بوجھ سے حقیقی نجات مل سکے۔