Business
عالمی مالیاتی استحکام رپورٹ 2026: آئی ایم ایف کی جانب سے معیشت پر اہم وارننگ
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سالانہ اجلاس 2026 کے موقع پر عالمی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر کی معیشتیں جلد ہی اپنی لچک کی آخری حدوں کو چھو سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بڑھتے ہوئے قرضے، مہنگائی کے خطرات اور بانڈز کی پیداوار میں بے قاعدہ اضافے کے خدشات منڈیوں کے لیے بڑے چیلنجز بن رہے ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سالانہ اجلاس 2026 کے موقع پر جاری کردہ اپنی تازہ ترین 'عالمی مالیاتی استحکام رپورٹ' کے تناظر میں سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے حکام کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کی معیشتیں ایسے دور میں داخل ہو رہی ہیں جہاں وہ بہت جلد اپنی لچک کی آخری حدود کو ٹیسٹ کرتی نظر آئیں گی۔ مالیاتی منڈیوں میں بڑھتے ہوئے دباؤ اور غیر یقینی صورتحال نے پالیسی سازوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کی بڑی معیشتیں کوروناوبا کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے بجٹ خسارے کی طرف گامزن ہیں جو کہ ایک تشویشناک امر ہے۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ قرضوں کے بوجھ اور مہنگائی کے بگڑتے ہوئے خطرات کے باعث سرکاری بانڈز کی پیداوار میں غیر معمولی اور بے قاعدہ اچھال آ سکتا ہے، جو عالمی مالیاتی نظام کے لیے شدید جھٹکے کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
تاہم، اس چیلنجنگ ماحول میں کچھ مثبت پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں پیدا ہونے والی پیداواری صلاحیتیں ایشیا کے بڑھتی ہوئی عمر کے آبادیاتی مسائل کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ ٹیکنالوجی اور اے آئی کے ذریعے کارکردگی میں بہتری لاکر معاشی خسارے کو کسی حد تک متوازن کیا جا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، سالانہ اجلاس کے دوران پیش کی گئی یہ رپورٹ عالمی معیشت کے لیے ایک اہم انتباہ ہے کہ حکومتیں اپنے مالیاتی توازن کو درست کرنے کے لیے سخت اصلاحات نافذ کریں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر مالیاتی منڈیوں میں شدید عدم استحکام کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔