Business
رائل میل کو ہفتہ وار 400 پوسٹل ورکرز کا نقصان
برطانوی یونین کے مطابق رائل میل کو ایک نئے ترسیل کے نظام کے نفاذ کے بعد ہر ہفتے تقریباً 400 ملازمین کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یونین کا کہنا ہے کہ یہ نیا نظام سیکڑوں دفاتر میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہا ہے۔
برطانیہ کے معروف ادارے رائل میل کو ملازمین کی شدید قلت کا سامنا ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یونین نے انکشاف کیا ہے کہ ادارے کو ہر ہفتے لگ بھگ 400 پوسٹل ورکرز کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال ادارے کے روزمرہ کے امور اور ترسیلی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ کمیونیکیشن ورکرز یونین (سی ڈبلیو یو) کے ارکان کا کہنا ہے کہ ملازمین کے اتنی بڑی تعداد میں مستعفی ہونے یا نوکری چھوڑنے کی بنیادی وجہ ایک نیا ڈیلیوری سسٹم ہے جسے حال ہی میں متعارف کرایا گیا تھا۔ یونین کے مطابق یہ نیا نظام ملازمین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ یونین کے ترجمان نے مزید وضاحت کی ہے کہ یہ نیا ترسیل کا نظام ملک بھر کے سیکڑوں دفاتر میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور اس سے کام کا بوجھ غیر منصفانہ طور پر بڑھ گیا ہے۔ اس سسٹم کے تحت کام کرنے کے طریقہ کار میں ایسی تبدیلیاں لائی گئی ہیں جن پر عمل کرنا ملازمین کے لیے انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کارکنان اب اس پیشے کو چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب، اس صورتحال سے رائل میل کے صارفین کو بھی خطوط اور پارسلز کی بروقت ترسیل میں شدید تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یونین نے اعلیٰ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس ناکام نظام کا جائزہ لے اور ملازمین کے تحفظ اور سہولت کے لیے مؤثر اقدامات کرے تاکہ مزید ورکفرس کے ضیاع کو روکا جا سکے۔