World
یمن کے شہر تعز میں حوثی محاصرہ اور خوراک کا بحران
یمن کے محصور شہر تعز میں حوثی فورسز کی جانب سے سڑکوں کی ناکہ بندی کے باعث اشیائے خوردونوش کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ سرکاری فورسز اس شہر میں محاصرے کا شکار ہیں اور عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
یمن کے تاریخی اور اہم شہر تعز میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے جہاں حوثی فورسز کی جانب سے جاری محاصرے اور سڑکوں کی ناکہ بندی کی وجہ سے خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یمنی سرکاری فورسز اس علاقے میں حوثی محاصرے میں گھری ہوئی ہیں اور زمینی راستے بند ہونے کی وجہ سے عام شہریوں کی زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ طویل عرصے سے جاری اس ناکہ بندی کے نتیجے میں شہر کے اندر ادویات، ایندھن اور بنیادی غذایی اشیاء کی رسد تقریباً معطل ہو کر رہ گئی ہے، جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تعز کے محصور علاقوں میں رہنے والے عام شہریوں بالخصوص بچوں اور خواتین کو خوراک کی کمی کی وجہ سے سنگین نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔ راستے بند ہونے کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہو چکی ہیں اور امدادی سامان کی ترسیل میں بھی شدید رکاوٹیں حائل ہیں۔ یمنی حکومت اور بین الاقوامی برادری سے فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ محاصرے میں پھنسے ہوئے لاکھوں شہریوں کے لیے خوراک اور امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک زمینی راستے کھولنے کے لیے کوئی موثر سفارتی یا عسکری حل تلاش نہیں کیا جاتا، اس خطے میں انسانی مصائب میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔