LIVE
Loading Breaking News...

ٹوپاک شکور قتل کیس: مجرم ڈوین کیفی ڈی ڈیوس کو 40 سال قید کی سزا

News Image
امریکی عدالت نے سن 1996 میں لیجنڈری ریپر ٹوپاک شکور کے قتل کے مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے اہم مجرم ڈوین کیفی ڈی ڈیوس کو عمر قید اور کم از کم چالیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس عدلتی فیصلے کو ہپ ہاپ کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور طویل عرصے سے التوا کا شکار باب کا انجام قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ میں سن 1996 کے دوران ہونے والے ہپ ہاپ کے عالمی شہرت یافتہ لیجنڈری ریپر ٹوپاک شکور کے قتل کے مقدمے میں عدالت نے ایک تاریخی اور طویل انتظار کے بعد فیصلہ سنادیا ہے۔ اس مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم اور مجرم ڈوین کیفی ڈی ڈیوس کو چالیس سال سے لے کر عمر قید تک کی سخت سزا سنائی گئی ہے۔ اس عدلتی فیصلے کے بعد موسیقی کی دنیا اور خاص طور پر ہپ ہاپ انڈسٹری میں ایک نئے بحث کا آغاز ہو چکا ہے کیونکہ مداح دہائیوں سے اس المناک واقعے کے انصاف کے منتظر تھے۔ واضح رہے کہ ٹوپاک شکور کو لاس ویگاس میں سن 1996 کی ایک ستمبر کی رات کو فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا گیا تھا جس کے چند روز بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔ اس وقت اس اندھے قتل کے معمہ کو حل کرنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یہ کیس طویل عرصے تک ایک ان سلجھا ہوا راز بنا رہا۔ تاہم حالیہ برسوں میں پولیس اور استغاثہ نے اس پرانی فائل کو دوبارہ کھولا اور نئے شواہد اکٹھے کیے جن کی بنیاد پر ڈوین کیفی ڈی ڈیوس کو قانونی کٹہرے میں لایا گیا۔ عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے مجرم کے خلاف مضبوط دلائل پیش کیے اور بتایا کہ کس طرح اس نے اس مجرمانہ سازش کا منصوبہ بنایا اور اس پر عملدرآمد کیا۔ دفاعی وکیلوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود جیوری اور جج نے شواہد کی روشنی میں مجرم کو سزا سنانے کا فیصلہ کیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران ٹوپاک شکور کے خاندان اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان کے لاکھوں مداحوں کی نگاہیں لاس ویگاس کی اس عدالت پر لگی ہوئی تھیں جو اس پرانے زخم کو پرسکون کرنے کی منتظر تھی۔ اس سزا کے اعلان کے بعد مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس فیصلے سے ٹوپاک شکور کی زندگی واپس نہیں آ سکتی لیکن اس سے قانون کی بالادستی اور انصاف کے تقاضے ضرور پورے ہوئے ہیں۔ موسیقی کی تاریخ میں ٹوپاک شکور کا نام آج بھی سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے اور ان کی آواز و شاعری آج کی نوجوان نسل کے لیے بھی اتنی ہی با اثر ہے جتنی کہ نوے کی دہائی میں تھی۔ عدالت کا یہ فیصلہ ان تمام افراد کے لیے ایک پیغام ہے جو قانون کی گرفت سے طویل عرصے تک بچ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔