LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں اسرائیل کی یلو لائن کی توسیع اور بے گھر افراد کا بحران

News Image
غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے ’یلو لائن‘ کو مغرب کی طرف مزید آگے بڑھا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے شجاعیہ اور گردونواح کے مکینوں کو ایک بار پھر شدید خطرات کا سامنا ہے۔ اس نئی پیش قدمی کے بعد بے گھر ہونے والے ہزاروں خاندانوں کے لیے اب محفوظ مقامات پر پناہ حاصل کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
غزہ کی پٹی میں جاری کشیدہ اور سنگین صورتحال کے دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے سکیورٹی کے نام پر نام نہاد ’یلو لائن‘ کو مغرب کی سمت مزید آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ اس نئی فوجی پیش قدمی کے نتیجے میں غزہ کے مختلف علاقوں بالخصوص شجاعیہ اور اس کے اطراف میں رہنے والے عام شہریوں اور پہلے سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کو ایک بار پھر سے انتہائی خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ زمینی حقائق کے مطابق ان علاقوں میں رہنے والے لوگ اب شدید خوف و ہراس کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مقامی ذرائع اور امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یلو لائن کی اس اچانک تبدیلی اور مغربی جانب پھیلاؤ نے لاکھوں افراد کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جو خاندان پہلے ہی لڑائی کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے اور عارضی خیموں یا پناہ گاہوں میں دن گزار رہے تھے، انہیں اب دوبارہ نقل مکانی کے احکامات یا خطرات کا سامنا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غزہ کا محصور خطہ پہلے ہی تباہ حال ہے، تو ایسے میں ان بے گھر افراد کے لیے نئی پناہ گاہیں کہاں تلاش کی جائیں گی۔ بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی فوجی کارروائیوں سے پہلے سے جاری انسانی المیہ مزید سنگین ہو جائے گا۔ خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات اور بنیادی ضرورت کی اشیاء کی پہلے ہی شدید قلت پائی جاتی ہے، اور اس تازہ پیش قدمی نے امدادی سرگرمیوں کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ متاثرہ شہریوں کی جانب سے عالمی برادری سے فوری مداخلت اور جنگ بندی کے مطالبات کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔