LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر سینیٹ میں گرما گرم بحث

News Image
اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی صورتحال کے نفاذ پر شدید بحث ہوئی۔ پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے اس اقدام کو سیکورٹی کی آڑ میں سیاسی بحران قرار دیا جبکہ وفاقی وزراء نے اس فیصلے کا دفاع کیا۔
اسلام آباد: سینیٹ کے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور بارہ اضلاع میں ایمرجنسی کے اجراء پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان سخت بحث و مباحثہ ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر نے اس اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے سکیورٹی کے حل کی آڑ میں ایک سیاسی بحران قرار دیا، جبکہ دوسری طرف وفاقی وزراء نے اس فیصلے کو آئین کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے اس کا پرزور دفاع کیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اتوار کے روز خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے مبینہ لاتعلقی کی بنیاد پر گورنر راج نافذ کیا گیا تھا، جس کی پارلیمنٹ سے توثیق ضروری ہے۔سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ پاکستان کے آئین کا ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحران کے وقت آئین کو ہماری ڈھال بننا چاہیے نہ کہ بحران کا شکار ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی حب الوطن پاکستانی یا سیاسی جماعت دہشت گردی کے فروغ کی حامی نہیں ہے اور دہشت گردی کا پوری طاقت سے خاتمہ ہونا چاہیے، لیکن یہ جنگ آئینی جمہوریت کے خلاف نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے آرٹیکل 232 اور 234 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کا استعمال غیر مشروط نہیں ہے اور حکومت کو اس بات کا ثبوت دینا ہوگا کہ آئینی شرائط پوری ہو چکی ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ مرکز یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ صوبائی حکومت اب آئینی طور پر کام نہیں کر سکتی اور اس یکطرفہ اعلان کو حتمی سمجھ لیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس قسم کے ہنگامی اختیارات کو کسی ایک سیاسی حریف کے خلاف معمول بنا لیا گیا تو مستقبل میں کوئی بھی صوبہ یا جماعت اس سے محفوظ نہیں رہے گی۔ انہوں نے سینیٹ پر زور دیا کہ وہ محض ایک ربڑ سٹمپ نہ بنے بلکہ قانون اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس معاملے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آپ انتظامیہ پر تو کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں لیکن طاقت کے بل بوتے پر عوامی اعتماد اور جمہوری جواز حاصل نہیں کیا جا سکتا۔دوسری جانب وفاقی وزراء اور بالخصوص وزیر داخلہ محسن نقوی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم اٹھانا کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا اور اس سے آئین کی کسی بھی شے کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں دہشت گردی کے معاملے پر طویل بحث ہوئی تھی اور اگر عین وقت پر معاہدہ طے پا جاتا تو شاید یہ قدم اٹھانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اس سلسلے میں متعدد ترامیم بھی تجویز کی تھیں لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے عدم تعاون کی وجہ سے صورتحال اس نہج تک پہنچی۔