LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی کوریا میں تاریخ کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ

News Image
جنوبی کوریا میں ایک صدی سے زائد عرصے کا ریکارڈ توڑتے ہوئے درجہ حرارت بیالیس اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔ شدید گرمی کی لہر کے پیش نظر ملک بھر کے بیس سے زائد علاقوں میں ہنگامی وارننگز جاری کر دی گئی ہیں۔
جنوبی کوریا نے اتوار کے روز اپنی تاریخ کا اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا ہے جو کہ ملک میں ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط موسمیاتی ریکارڈ میں ایک نیا سنگ میل ہے۔ سرکاری موسمیاتی ادارے کوریا میٹرولوجیکل ایڈمنسٹریشن کے مطابق، جنوب مشرقی شہر یانگسان میں دوپہر کے وقت درجہ حرارت بیالیس اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔ یانگسان شہر اس وقت ملک بھر میں جاری شدید گرمی کی لہر کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں مسلسل پانچویں روز بھی درجہ حرارت چالیس ڈگری سے اوپر ریکارڈ کیا گیا۔ شدید گرمی کی اس لہر کے باعث جنوبی کوریا کے بیشتر حصوں میں ہیٹ وارننگز جاری کی گئی ہیں جبکہ کئی شہروں میں پارہ اچھل کر چالیس کے قریب پہنچ رہا ہے۔ حالات کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے اتوار کے روز بیس سے زائد علاقوں میں ہنگامی ہیٹ ویو الرٹس نافذ کیے گئے۔ واضح رہے کہ یہ وارننگ کی ایک نئی کیٹگری ہے جسے رواں سال بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے بہتر طریقے سے نمٹنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ یہ ہنگامی الرٹ اس وقت جاری کیا جاتا ہے جب کسی علاقے میں شدید گرمی کی لہر کے دوران محسوس ہونے والا درجہ حرارت اڑتیس ڈگری یا اصل درجہ حرارت انتیس ڈگری تک پہنچنے کی پیشگوئی کی جائے۔ کوریا میٹرولوجیکل ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک میں سالانہ ہیٹ ویو کے دنوں کی اوسط تعداد بڑھ کر انیس ہو چکی ہے جبکہ ستر کی دہائی میں یہ تعداد صرف آٹھ تھی۔ موسمیاتی ماہرین اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے باعث شدید موسمی واقعات اب زیادہ کثرت اور شدت کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں۔ گرمی کی اس شدید لہر نے نہ صرف عام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے بلکہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی شہریوں کی حفاظت کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرین نے شہریوں کو بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ہیٹ اسٹروک اور دیگر طبی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔