LIVE
Loading Breaking News...

سعودی اتحاد کے صنعا میں تیل تنصیبات پر فضائی حملے

News Image
سعودی اتحاد نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ یمنی دارالحکومت صنعا میں تیل کی تنصیبات پر فضائی حملے کیے ہیں۔ حملے سے قبل اتحاد نے شہریوں کو ان علاقوں کو خالی کرنے کی تنبیہ کی تھی۔
یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد نے منگل کے روز دارالحکومت صنعا میں تیل کی ایک تنصیب پر بمباری کی ہے۔ یہ کارروائی اس انتباہ کے بعد کی گئی جس میں ریاض کی قیادت والے اتحاد نے شہریوں کو اس کے گردونواح سے نکل جانے کا حکم دیا تھا، جو جنگ دوبارہ بھڑکنے کے بعد سے اس یمنی دارالحکومت کے لیے پہلا انخلا کا حکم نامہ تھا۔ سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایک بیان میں بتایا کہ ان فوجی کارروائیوں کا ہدف وہ اہم اثاثے تھے جو حوثی یمن میں جنگ لڑنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان اہداف میں صنعا میں السباحہ کا مرکزی اسٹیشن، زیرِ زمین ایندھن کے ذخائر اور ٹینک شامل ہیں۔ اس سے قبل اتحاد کے ترجمان نے کہا تھا کہ لوگوں کو صنعا کے مغربی بیرونی علاقے میں یمن پٹرولیم کمپنی سے تعلق رکھنے والی تیل کی تنصیب کو نشانہ بنائے جانے سے پہلے وہاں سے چلے جانا چاہیے۔ صنعا میں موجود اے ایف پی کے ایک نامہ نگار نے ایک زور دار دھماکے کی آواز سننے کی اطلاع دی، جب کہ حوثی کی زیرِ نگرانی المسیرہ ٹی وی چینل پر ایک بریکنگ نیوز الرٹ میں بتایا گیا کہ سعودی جارحیت نے صنعا کے مغرب میں السباحہ میں پٹرولیم کمپنی کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب حوثیوں نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر یہ حملہ کیا گیا تو وہ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے، ایک ریفائنری اور دمام میں آرامکو کی تنصیب کو نشانہ بنائیں گے۔ فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں شہریوں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ان اہداف سے دور چلے جائیں جہاں ان کی فورسز جوابی کارروائی کریں گی۔ اس کشیدگی کے دوران صنعا میں بہت سے شہریوں نے ایندھن کی قلت کے خوف سے پٹرول پمپوں کا رخ کیا، تاہم یمن پٹرولیم کمپنی نے عوام کو یقین دلایا کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کر لی گئی ہیں اور پیٹرولیم کے ذخائر محفوظ مقامات پر کافی مقدار میں موجود ہیں۔ دریں اثنا، سعودی عرب کو بھی منگل کے روز مسلسل حملوں کا سامنا کرنا پڑا جہاں عسکری اتحاد نے دارالحکومت ریاض کے شمال میں تین ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔