LIVE
Loading Breaking News...

سپریم کورٹ کا شادی سے انکار پر خواتین پر تشدد کے خلاف تاریخی فیصلہ

News Image
سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ شادی سے انکار پر خواتین کے خلاف تشدد اور قتل جیسے واقعات مہذب معاشرے کے ضمیر پر ایک گہرا داغ ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ایک مجرم کی نظرثانی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مردانہ بالادستی کی سوچ اور فرسودہ رسوم و رواج کسی صورت ناقابلِ قبول ہیں۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پدرانہ رسوم و رواج اور صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی بھی مہذب معاشرے کے ضمیر پر ایک گہرا دھبہ ہے کہ ایک مرد، جو کسی عورت کی محبت جیتنے میں ناکام رہے، وہ اس کے انکار کو قبول کرنے کے بجائے تشدد کا سہارا لے۔ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی تحریر کردہ نو صفحات پر مشتمل فیصلے میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مرد اپنی مجروح شدہ انانیت کو تسکین دینے کے لیے خاتون کی جان لے لیتا ہے کیونکہ وہ اسے شادی کے لیے راضی کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے، نے محمد کامران کی مجرمانہ نظرثانی اپیل مسترد کر دی جس میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ مجرم کامران نے سزائے موت کے سیل میں تقریباً 15 سال گزارے تھے، اور اسے ایک خاتون کو قتل کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی جس نے اور اس کے اہل خانہ نے اس کا رشتہ مسترد کر دیا تھا۔ عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ شادی ایک باہمی، رضاکارانہ معاہدہ ہے جس کے لیے دونوں فریقوں کی آزادانہ رضامندی ضروری ہے۔ لیکن مختلف پدرانہ نظاموں میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ مردوں کو کسی عورت کے انتخاب، مطالبہ اور اس پر ملکیت کا خصوصی حق حاصل ہے، چاہے اس کی اپنی مرضی کچھ بھی ہو۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جب کوئی خاتون اپنے انکار کے بنیادی حق کا استعمال کرتی ہے تو وہ مرد کے تسلط کو چیلنج کرتی ہے۔ اس سوچ کے تحت اس مسترد کیے جانے کو مرد اپنی غیرت پر حملہ سمجھتا ہے جس کے نتیجے میں تعاقب، گھریلو حملہ، تیزاب پھینکنے یا قتل جیسے واقعات جنم لیتے ہیں۔ عدالت نے گھگ، وارہ (ونی) اور وٹا سٹہ جیسی فرسودہ قبائلی اور روایتی رسوم کا بھی حوالہ دیا جن کے ذریعے خواتین کی مرضی کے بغیر ان کے رشتے طے کیے جاتے ہیں یا انہیں سودے بازی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اسلام بھی خواتین کی آزادانہ رضامندی کو نکاح کی شرط قرار دیتا ہے اور اس طرح کے جبر کی کوئی گنجائش نہیں۔