Business
پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کی پیشگوئی، آئی ایم ایف رپورٹ جاری
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی نئی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد اور مہنگائی 9.9 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق پاکستان سمیت توانائی درآمد کرنے والی کمزور معیشتوں کو سخت ترین چیلنجز کا سامنا رہے گا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی جاری کردہ فلیگ شپ 'ور্ল্ড اکنامک آؤٹ لک' رپورٹ میں رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ مہنگائی کے دباؤ کے باعث یہ شرح 9.9 فیصد کے قریب رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ واشنگتن میں قائم اس عالمی ادارے نے بینک آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر یہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جن کے مطابق پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی جی ڈی پی کے 0.5 فیصد سرپلس سے بڑھ کر 1 فیصد تک وسعت اختیار کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیڈ لائن انفلیشن میں نمایاں اضافہ متوقع ہے جو گزشتہ سال کے 7.1 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 9.9 فیصد تک جا سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان میں بے روزگاری کی شرح میں کمی کی پیشگوئی بھی کی ہے جو گزشتہ برس کے 6.9 فیصد سے کم ہو کر رواں سال 6.5 فیصد پر آ سکتی ہے۔ تاہم، عالمی ادارے نے بڑھتی ہوئی آبادی اور دیگر اقتصادی دباؤ کے باوجود بے روزگاری میں اس کمی کی کوئی واضح وجوہات بیان نہیں کی ہیں۔ آئی ایم ایف کی یہ معاشی ترقی کی پیشگوئی حکومت کے اس ہدف سے نمایاں طور پر کم ہے جس میں رواں سال 4 فیصد ترقی کا ہدف رکھا گیا تھا، جبکہ ورلڈ بینک نے گزشتہ ماہ پاکستان کی گروتھ کا تخمینہ 3.8 فیصد لگایا تھا۔ دوسری جانب، عالمی معیشت کے حوالے سے آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ متعدد چیلنجز کے باوجود عالمی معاشی سرگرمیاں مستحکم رہی ہیں، تاہم توانائی درآمد کرنے والے ممالک اور پاکستان جیسی معیشتیں جن کا ٹیکنالوجی ویلیو چین سے کم رابطہ ہے، انہیں بدستور انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی، تجارتی تناؤ اور مالیاتی کمزوریاں معاشی ترقی کو مزید متاثر کر سکتی ہیں۔ ادھر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اپنے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ حکومت کو توقع ہے کہ تیل کی بلند قیمتوں کے باوجود معیشت اس مالی سال چار فیصد سے زیادہ کی رفتار سے ترقی کرے گی، جبکہ معیشت کو سہارا دینے کے لیے نجکاری کے عمل کو بھی تیز کیا جا رہا ہے۔