Pakistan
وزیراعظم کا آفت برداشت کرنے والی کمیونٹیز کی تعمیر پر زور
وزیراعظم پاکستان نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط اور آفت برداشت کرنے والی کمیونٹیز کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کم اخراج کے باوجود موسمیاتی بحران کی اگلی صفوں میں کھڑا ہے۔
وزیراعظم پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات اور ان کے ملک پر پڑنے والے شدید اثرات کے پیش نظر آفت سے نمٹنے والی اور پائیدار کمیونٹیز کی تعمیر پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ موجودہ حکومت موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے جانی اور مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی کاربن کے اخراج میں اس کا حصہ انتہائی کم ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان عالمی ماحولیاتی ناانصافی اور بحران کے خطرے کی زد میں ہے۔ ملک میں گلیشیئرز کے پگھلنے کے خطرات یعنی جی ایل او ایف (GLOF) کے حوالے سے بھی وارننگز جاری کی گئی ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے فوری اور موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ تخفیف اور موافقت کے منصوبوں کو محض ہنگامی بنیادوں پر نہیں بلکہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے بین الاقوامی برادری کو بھی پاکستان جیسے متاثرہ ممالک کی مالی اور تکنیکی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ موسمیاتی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکیں اور مستقبل کی نسلوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔