LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا دعویٰ، روس اور چین کا ایران سے متعلق مؤقف

News Image
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ روس اور چین ایران کی کسی قسم کی مدد کر رہے ہیں۔ ان کا یہ مؤقف امریکی انٹیلی جنس کے روایتی جائزوں سے متصادم ہے۔
امریکہ کے سابق صدر اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ انہیں اس بات پر بالکل یقین نہیں ہے کہ روس اور چین ایران کی کسی بھی طرح کی مدد یا پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ان کا یہ غیر متوقع بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مختلف امور پر مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ ٹرمپ کا یہ مؤقف امریکی انٹیلی جنس کے روایتی جائزوں سے بالکل الٹ ہے، جو ماضی میں تہران، ماسکو اور بیجنگ کے درمیان مختلف شعبوں میں قریبی تال میل کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کیا کہ روس اور چین ایران کو کسی بھی بڑے بحران سے نکالنے کے لیے سفارتی یا اقتصادی سطح پر سرگرم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی منظر نامے پر ہر ملک اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتا ہے اور فی الحال ایسے شواہد موجود نہیں ہیں جو یہ ثابت کریں کہ ماسکو اور بیجنگ تہران کی براہ راست مدد کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان عالمی سیاست اور سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے، خصوصاً جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہے۔ دوسری جانب، امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور دفاعی امور کے ماہرین کا طویل عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ایران، روس اور چین کے درمیان تجارتی اور دفاعی نوعیت کے روابط موجود ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق تہران کو ماضی میں اقتصادی دباؤ سے نمٹنے کے لیے ماسکو اور بیجنگ کی جانب سے مبینہ طور پر بعض شعبوں میں معاونت ملتی رہی ہے۔ تاہم، ٹرمپ کے تازہ ترین بیان نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ آیا امریکہ کی آئندہ خارجہ پالیسی میں ان ممالک کے باہمی تعلقات کو کس زاویے سے دیکھا جائے گا اور آیا واشنگٹن اپنے روایتی انٹیلی جنس مؤقف میں کوئی تبدیلی لائے گا یا نہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدہ تعلقات اور مذاکرات میں تعطل کے اس دور میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی بازگشت دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں سنی جا رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اس بیان کو ٹرمپ کے روایتی اندازِ سیاست کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جس میں وہ اکثر سرکاری انٹیلی جنس رپورٹس سے ہٹ کر اپنے ذاتی خیالات اور مشاہدات کو ترجیح دیتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ اقتدار سنبھالنے کے بعد روس، چین اور ایران کے त्रिपक्षीय تعلقات کے حوالے سے کیا عملی لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔