World
آبنائے ہرمز میں ایرانی دھمکیاں اور مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تیل کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں میں اضافہ ہوگیا ہے جس کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ خطے میں پیش آنے والے حالیہ بحری واقعات کے بعد سپر ٹینکرز نے خلیجی تیل کی ترسیل کے مرکز سے کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور بالخصوص تیل کی ترسیل کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کے خطرات میں اضافہ دیکھا گیا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے خطے میں ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے اور اس امر کی دھمکی دی ہے کہ آبنائے ہرمز سے باہر بھی بحری جہازوں کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے بحران کو شدید تر کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے اب امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تیل کی ترسیل کرنے والے شٹل کو اپنی نظروں میں لے لیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت سے سپر ٹینکرز اور تجارتی جہازوں نے خلیجی تیل کے ترسیلی مرکز سے اپنے راستے تبدیل کر لیے ہیں یا وہاں سے کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔ حال ہی میں آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایک آئل ٹینکر میں آگ لگنے کا واقعہ بھی پیش آیا ہے جس کی تصدیق ایرانی بحریہ کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔ اس واقعے نے بین الاقوامی بحری کمپنیوں اور جہاز رانی کے تاجروں میں خوف و ہراس پھیلادیا ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ کا براہ راست اثر عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ اگرچہ عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، لیکن عسکری جھڑپوں اور حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات نے بحری تجارت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ تاجروں اور شپنگ کمپنیوں نے اپنے عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے متبادل راستوں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔
خطے کے سیاسی اور عسکری مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے کم نہ کیا گیا تو یہ بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سلامتی نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے، اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید بین الاقوامی اقدامات متوقع ہیں۔