LIVE
Loading Breaking News...

ملازمت کی درخواستوں میں اے آئی کا استعمال اور اس کے اثرات

News Image
نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ فارغ التحصیل طلباء ملازمت کی درخواستوں میں خود کو بہتر دکھانے کے لیے تیزی سے مصنوعی ذہانت کا سہارا لے رہے ہیں۔ بعض افراد کا ماننا ہے کہ سخت مسابقت کے اس دور میں ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔
جدید دور میں مصنوعی ذہانت (AI) نے زندگی کے ہر شعبے کی طرح ملازمت کے حصول کے طریقوں کو بھی یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق، یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوان اب ملازمت کی درخواستوں، سی ویز اور کور لیٹرز تیار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اے آئی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس رجحان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو زیادہ بہتر انداز میں پیش کر سکیں اور مارکیٹ میں موجود سخت مقابلے کا سامنا کر سکیں۔ تاہم، اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا جاب سکرز یا آجرین کی طرف سے اس ٹیکنالوجی کا اس طرح استعمال اخلاقی طور پر درست بھی ہے یا نہیں۔ دوسری طرف، نوکری کے متلاشی نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ اس بات کا دفاع کرتا ہے کہ موجودہ دور میں مسابقت اتنی شدید ہو چکی ہے کہ ان کے پاس مصنوعی ذہانت کی مدد لینے کے علاوہ کوئی اور چارہ باقی نہیں بچا۔ ان کا ماننا ہے کہ جب دیگر امیدوار بھی اے آئی کی مدد سے اپنی درخواستیں بہتر بنا رہے ہیں، تو اس کا استعمال نہ کرنا ان کو دوڑ میں پچھلے درجے پر لے جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی کے ذریعے کام کو تیز اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے، لیکن اس کے اندھا دھند استعمال سے بعض اوقات امیدواروں کی اصل صلاحیتوں کے بارے میں غلط تاثر بھی قائم ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب، کمپنیوں اور مالکان کے لیے بھی یہ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے کہ وہ ایسے امیدواروں کی شناخت کریں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہو۔ ایچ آر کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھرتی کے عمل میں شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے نئے طریقوں اور اصولوں کی ضرورت ہے تاکہ اصل قابلیت کے حامل افراد کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔