LIVE
Loading Breaking News...

جرمنی میں روبوٹ پولیس کی تحویل میں، لڑکی کو ہراساں کرنے کا انوکھا الزام

News Image
جرمنی میں پولیس نے ایک حیرت انگیز واقعے کے بعد ایک روبوٹ کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے جس پر ایک نویں جماعت کی لڑکی کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے اور روبوٹ کے مالک سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔
جرمنی میں ٹیکنالوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ایک انتہائی انوکھا اور غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے جہاں پولیس نے ایک روبوٹ کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب سولہ سالہ روبوٹ کے مالک اور اس کے ایک ساتھی کی جانب سے مبینہ طور پر اس پورے واقعے کی لائیو اسٹریمنگ کی جا رہی تھی۔ حکام کے مطابق اس معاملے میں جنسی ہراسانی کے شبے کے تحت باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے جو کہ اپنی نوعیت کا ایک پہلا اور انوکھا واقعہ ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب روبوٹ نے مبینہ طور پر ایک نوجوان لڑکی کو نامناسب انداز میں چھوا۔ اس عمل کے دوران وہاں موجود افراد نے اس کی ویڈیو بھی بنائی اور اسے انٹرنیٹ پر لائیو نشر کیا۔ جب یہ ویڈیو اور اس کی شکایات متعلقہ حکام تک پہنچیں تو پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے اس متنازعہ روبوٹ کو اپنے قبضے میں لے لیا تاکہ اس کی پروگرامنگ اور تکنیکی خامیوں کا جائزہ لیا جا سکے کہ آیا یہ عمل کسی تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور محرک کارفرما تھا۔ ماہرینِ قانون اور ٹیکنالوجی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور روبوٹکس کے دور میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مشین کو اس نوعیت کے الزام میں تحویل میں لیا گیا ہو۔ پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا روبوٹ کو اس طرح کی حرکت کے لیے دور سے کنٹرول کیا جا رہا تھا یا یہ اس کے خودکار نظام کا کوئی نقص تھا۔ اس واقعے نے دنیا بھر میں انسان اور روبوٹ کے تعلقات اور مصنوعی ذہانت کے اخلاقی ضابطوں پر ایک نئی بحث چھڑ دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور روبوٹ کے مالک سمیت تمام متعلقہ افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ قانون کی کون سی دفعات اس انوکھے معاملے پر لاگو ہوتی ہیں۔ اس واقعے نے نہ صرف جرمنی بلکہ عالمی سطح پر ماہرینِ تعلیم، قانون دانوں اور تکنیکی ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے جو اس کے انجام کے منتظر ہیں۔