LIVE
Loading Breaking News...

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف ہنگامہ آرائی

News Image
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ یہ احتجاج عمران خان کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقے میں ہوا۔
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق، یہ مظاہرے سابق وزیراعظم عمران خان کے سیاسی گڑھ میں ہوئے جہاں کارکنان اور حامی سڑکوں پر نکل آئے اور حکومتی فیصلوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس دوران مشتعل مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جس سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور مختلف مقامات پر شیلنگ بھی کی گئی، جبکہ مظاہرین کی جانب سے بھی پولیس پر پتھراؤ کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ علاقے میں اس ناخوشگوار صورتحال کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت معطل ہو کر رہ گئی۔ سیاسی حلقوں میں اس پیشرفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ خطہ پاکستان تحریک انصاف کا سب سے مضبوط قلعہ مانا جاتا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ امن عامہ کو برقرار رکھنے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت اور مقامی رہنماؤں نے اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر اضافی سکیورٹی فورسز کو بھی طلب کر لیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے اور حالات کو قابو میں رکھا جا سکے۔