LIVE
Loading Breaking News...

جمیکا اور امریکہ کا تارکین وطن کی ملک بدری کا معاہدہ اور تازہ ترین صورتحال

News Image
جمیکا نے امریکہ کی جانب سے تیسرے ملک کے تارکین وطن کی ملک بدری کی پہلی پرواز کو قبول کر لیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کو تاحک حکومتی سطح پر عام نہ کرنے پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جمیکا کی حکومت نے امریکہ کی جانب سے بھیجی جانے والی تیسرے ملک کے تارکین وطن کی ملک بدری کی پہلی پرواز کو باقاعدہ طور پر قبول کر لیا ہے۔ اس پیشرفت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تارکین وطن کے حوالے سے ہونے والے نئے معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز ہو چکا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ امریکی انتظامیہ تارکین وطن کی واپسی کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ معاہدے طے کر رہی ہے تاکہ پناہ کے متلاشی افراد اور غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک یا دیگر منظور شدہ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ تاہم، اس اقدام کے بعد جمیکا کے سیاسی حلقوں اور خصوصاً اپوزیشن جماعتوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت سے شدید الفاظ میں سوال کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے اس ملک بدری کے معاہدے کو تاحال عوام اور پارلیمنٹ سے خفیہ کیوں رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حساس بین الاقوامی معاہدے جمیکا کی ملکی سلامتی، معیشت اور انسانی حقوق کی صورتحال پر براہ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں، اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاہدے کی تفصیلات کو فوری طور پر منظر عام پر لائے۔ دوسری جانب حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم بین الاقوامی سفارتی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے اور اس سے قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس معاملے پر آنے والے دنوں میں جمیکا کی پارلیمنٹ میں شدید ہنگامہ آرائی ہو سکتی ہے کیونکہ اپوزیشن اس معاہدے کو لے کر حکومتی شفافیت پر مسلسل سوالات اٹھا رہی ہے۔ اس وقت پورا خطہ اس پیشرفت کو انتہائی غور سے دیکھ رہا ہے کیونکہ اس سے دیگر کیریبین ممالک پر بھی اسی نوعیت کے معاہدے کرنے کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔