Business
بینک آف امریکہ پر 1.2 ارب ڈالر جرمانہ، منی لانڈرنگ کا انکشاف
امریکہ کے دوسرے بڑے بینک پر منی لانڈرنگ اور پابندیوں کے قوانین کی تعمیل نہ کرنے پر تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی بینک کی جانب سے ریگولیٹری تقاضوں کو نظر انداز کرنے پر کی گئی ہے۔
امریکہ کے دوسرے بڑے مالیاتی ادارے بینک آف امریکہ کو منی لانڈرنگ اور عالمی پابندیوں کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ریگولیٹری حکام کے مطابق بینک کی جانب سے قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں اور انسداد منی لانڈرنگ کے لیے طے شدہ ضوابط پر درست طریقے سے عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ یہ کارروائی امریکی تاریخ کے بڑے جرمانوں میں شمار کی جا رہی ہے جس سے بینکنگ سیکٹر میں ہلچل مچ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مالیاتی اداروں کے لیے یہ لازمی ہوتا ہے کہ وہ مشکوک ٹرانزیکشنز اور بین الاقوامی پابندیوں کی سخت نگرانی کریں تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے۔ تاہم، بینک آف امریکہ اس حوالے سے موثر نظام نافذ کرنے میں ناکام رہا جس کی وجہ سے ریگولیٹری اداروں نے یہ سخت قدم اٹھایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے بینکنگ انڈسٹری میں ضابطہ اخلاق کی پابندی کو مزید یقینی بنایا جائے گا۔
اس فیصلے کے بعد بینک آف امریکہ کے حصص پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بینک کی انتظامیہ کی جانب سے اس صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے اور آئندہ کے لیے قانونی اور داخلی طریقہ کار کو مزید سخت کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس جرمانے کے بعد امریکی بینکوں کو اپنے کمپلائنس کے نظام کو مزید مضبوط کرنا پڑے گا۔