Technology
اوپن اے آئی کے میٹنگ روم میں جاسوسی آلہ نصب، انجینئر گرفتار
امریکی حکام نے سعودی نژاد ایک شخص کو اوپن اے آئی کے میٹنگ روم میں خفیہ جاسوسی کا آلہ نصب کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد ٹیک انڈسٹری میں سکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
امریکہ میں حکام نے ایک اہم کارروائی کے دوران مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی کے ایک میٹنگ روم سے خفیہ طور پر جاسوسی کرنے والا آلہ برآمد ہونے کے بعد ایک سعودی نژاد شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس سکیورٹی واقعے نے ٹیک دنیا میں ہلچل مچا دی ہے کیونکہ دنیا کی صف اول کی اے آئی کمپنیوں میں حساس معلومات اور میٹنگز کی رازداری انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب سکیورٹی عملے نے باقاعدہ جانچ پڑتال کے دوران میٹنگ روم میں ایک مشکوک آلہ دریافت کیا۔ فوری طور پر متعلقہ حکام کو مطلع کیا گیا، جنہوں نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم پر خفیہ نگرانی کا آلہ نصب کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور اس معاملے کی مزید گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس کارروائی کا مقصد کیا تھا اور آیا اس کے پیچھے کوئی بڑا نیٹ ورک تو کارفرما نہیں۔
اوپن اے آئی کی جانب سے اس واقعے کے بعد اپنی داخلی سکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی ترقی میں مصروف اس ادارے کے اندر اس نوعیت کا سکیورٹی بریچ ہونا ایک غیر معمولی بات ہے، جس نے تمام بڑی ٹیک کمپنیوں کو اپنے دفاتر اور میٹنگ رومز کی حفاظت پر از سر نو غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزم سے مزید تفتیش کر رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔