Politics
خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے صوبے میں گورنر راج اور ہنگامی حالات کے نفاذ کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزراء کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے منہ موڑ چکی تھی اور گورنر راج سے عوام میں تحفظ کی امید پیدا ہوئی ہے۔
اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے نفاذ کا کھل کر خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے صوبے کے عوام میں ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے اور انہیں اپنی جان و مال کے تحفظ کی نوید ملی ہے۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اگر کے پی کے عوام تحریک انصاف کی مبینہ پرو دہشت گرد پالیسی کی حمایت کرتے تو سڑکوں پر لاکھوں افراد موجود ہوتے، لیکن اس کے برعکس بمشکل ایک درجن افراد احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اب اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس سیاسی و مجرمانہ گٹھ جوڑ کا خاتمہ ہوگا اور انہیں امن و امان کی بہتر فضا میسر آئے گی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2020 سے 2024 کے دوران جہاں 2,900 حملے ہوئے، وہیں 2024 سے 2026 کے عرصے میں یہ تعداد بڑھ کر 8,600 تک پہنچ گئی۔ وزیر قانون نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں آہنگ ہونا ناگزیر تھا، کیونکہ ایک ہی ملک میں دو مختلف پالیسیاں نہیں چل سکتیں۔ انہوں نے سابقہ پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبائی وسائل کو ذاتی سیاسی مقاصد اور اسلام آباد پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے تھے جبکہ ان کی ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ ہرگز نہیں تھی۔
اعظم نذیر تارڑ نے آئین کے آرٹیکل 232 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اندرونی خلفشار اور امن و امان کی سنگین صورتحال کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے جب صوبائی حکومت خود اس چیلنج سے نمٹنے میں ناکام ہو چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے معاملے کو حل کرنے کے لیے تمام ممکنہ راستے آزمائے اور صوبائی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہی، لیکن بدقسمتی سے ان کا رویہ تعاون کے برعکس رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ نے حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے یہ آئینی قدم اٹھایا تاکہ صوبے میں گورننس کے مکمل انہدام کو روکا جا سکے اور عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔