Pakistan
ملتان میں ٹرین حادثہ: رحمان بابا ایکسپریس پٹڑی سے اتری، 5 جاں بحق
ملتان کے قریب شیر شاہ ریلوے اسٹیشن پر پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کے پٹڑی سے اترنے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور چالیس سے زائد زخمی ہو گئے۔ وزیر ریلوے نے واقعے کی شفاف انکوائری کا حکم دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
صوبہ پنجاب کے ضلع ملتان میں شیر شاہ ریلوے اسٹیشن کے قریب پشاور جانے والی مسافر ٹرین رحمان بابا ایکسپریس ایک بڑے حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد جاں بحق اور چالیس سے زائد مسافر زخمی ہو گئے۔ پاکستان ریلویز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد حفیظ اللہ نے جانی نقصان کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ابتدائی انکوائری رپورٹ کے مطابق ٹرین کے پٹڑی سے اترنے کی اصل وجہ ایک مسافر کوچ میں فنی خرابی بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور مسافروں کو متبادل سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔
ٹرین کے ڈرائیور رضوان عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کے وقت ٹرین ایک سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی تھی اور سگنل بالکل سبز تھا۔ شیر شاہ اسٹیشن کے قریب پہنچتے ہی انہیں اچانک ایک زبردست دھکا محسوس ہوا جس پر انہوں نے فوری طور پر ایمرجنسی بریک لگائی اور ٹرین کو روکنے میں کامیاب ہو گئے۔ جب وہ انجن سے باہر نکل کر پیچھے آئے تو انہوں نے دیکھا کہ مسافر کوچز پٹڑی سے اتر چکی تھیں۔ وزیر ریلوے حفیظ اللہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے اس اندوہناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، جبکہ وفاقی حکومت کے انسپکٹر آف ریلوے کو واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔
حادثے کے بعد متاثرہ مسافروں کے لیے ریلوے انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر امدادی ڈیسک قائم کیے گئے اور پانچ سو سے زائد مسافروں کو متبادل ٹرین اور بسوں کے ذریعے ان کی منزل کی طرف روانہ کیا گیا۔ ملتان کے کمشنر اور دیگر ضلعی حکام نے اسپتالوں کا دورہ کیا اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرین حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کا بہترین علاج معالجہ کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے فول پروف انتظامات کیے جائیں۔