World
فرانسیسی طلبا احتجاج اور گریٹا تھنبرگ کی شرکت
فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت مختلف شہروں میں بہتر تعلیمی سہولیات اور اسکولوں کے مسائل کے خلاف ہزاروں طلبا نے احتجاجی مظاہرے کیے جن میں سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے بھی شرکت کی۔ احتجاج میں اساتذہ، یونیورسٹی کے طلبا اور سیاسی رہنما بھی شریک ہیں جو حکومت سے مطالبات منوانے کے لیے پرعزم ہیں۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس کے وسط میں منگل کے روز ہزاروں مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر ملک بھر میں جاری طلبہ تحریک کی حمایت کا بھرپور اظہار کیا۔ اس احتجاج کا بنیادی مقصد ہائی اسکولوں میں بہتر تعلیمی حالات، اساتذہ کی کمی کا خاتمہ اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے۔ اس احتجاج میں سویڈن کی مشہور نوجوان ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی، جنہوں نے طلبہ کے مؤقف کی پرزور تائید کی۔ صدر ایمانوئل میکرون کے جانشین کے انتخاب کے لیے ہونے والے صدارتی انتخابات سے محض چھ ماہ قبل ہونے والے ان مظاہروں سے حکام پریشان ہیں، کیونکہ وہ توقع کر رہے تھے کہ تعطیلات سے پہلے تحریک مدہم پڑ جائے گی۔ تاہم، ہائی اسکولوں کے طلبا، جنہیں یونیورسٹی کے طلبا، اساتذہ، یونینز اور بائیں بازو کی اپوزیشن جماعت کا بھی بھرپور تعاون حاصل ہے، کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات تاحال پورے نہیں کیے گئے۔ پیرس میں سٹی ہال کے باہر بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے جبکہ فرانسیسی صدارتی امیدوار جین لوک میلینچن بھی ہجوم میں موجود تھے۔ اس دوران فضا میں ستار وارز فلم کی دھنیں گونجتی رہیں اور طلبا نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ احتجاج میں شریک بیس سالہ پٹریسیا کا کہنا تھا کہ وہ ہمت نہیں ہاریں گے اور پولیس کے تشدد کے خلاف بھی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ وزارتِ تعلیم کے مطابق منگل کے روز ملک بھر کے ڈھائی سو سے زائد اسکول بند رہے جبکہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کا کہنا تھا کہ جامعات میں بھی تدریسی عمل معطل رہا۔ سین ڈینس کے علاقے میں اسکول کے باہر موجود تئیس سالہ گریٹا تھنبرگ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو فیصلوں کا حصہ نہیں بنایا جا رہا اور ان کا مستقبل ان سے چھینا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، صدر ایمانوئل میکرون نے پیرس میں ایک تقریب کے دوران مظاہرین سے تحمل کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ان مسائل کے حل کے لیے مشاورت اور وقت درکار ہے۔ حکومت نے متاثرہ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے اقدامات کا وعدہ کیا ہے، لیکن طلبا کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے۔