Politics
سিনেٹ کمیٹی کا وسائل پر وفاق اور صوبوں کے مشترکہ کنٹرول کا مطالبہ
سিনেٹ کی قائمہ کمیٹی نے تیل اور گیس کے وسائل سمیت کارپوریٹ منافع میں صوبوں کو پچاس فیصد حصہ دینے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے سولہ سال گزرنے کے باوجود صوبے اپنے حقوق کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔
اسلام آباد: سینیٹ کی ایک خصوصی کمیٹی نے ملک کے اہم قدرتی وسائل اور کارپوریٹ منافع جات پر وفاق اور صوبوں کے درمیان مشترکہ کنٹرول قائم کرنے کی پرزور سفارش کی ہے۔ کمیٹی کے اجلاس کے دوران اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے سولہ سال بعد بھی صوبوں کو ان کے حقوق اور تیل و گیس کے وسائل میں مساوی حصہ دینے کے معاملات تاحسن تشنہ تکمیل ہیں۔ اجلاس میں متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ فوری طور پر تیل، گیس اور دیگر معدنی وسائل کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ منافع کا پچاس فیصد حصہ متعلقہ صوبوں کو منتقل کریں۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف صوبائی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ وفاق اور اکائیوں کے درمیان اعتماد کی فضا بھی مزید بہتر ہوگی۔ علاوہ ازیں، سینیٹ پینل نے سرکاری محکموں اور اداروں میں ترقیوں کے دوران صوبائی کوٹے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی بھی سختی سے ہدایت کی ہے۔ اراکین کا کہنا تھا کہ پسماندہ اور چھوٹے صوبوں کے ملازمین کو ان کا حق دینا قومی یکجہتی کے لیے انتہائی ضروری ہے، اس لیے ترقیاتی اور انتظامی امور میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ماہرینِ معاشیات اور سیاسی تجزیہ کاروں نے سینیٹ کمیٹی کے اس فیصلے کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے اس پر من و عن عملدرآمد کے چیلنجز کی نشاندہی بھی کی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک وفاقی وزارتیں اور کارپوریٹ ادارے اس پالیسی کو دل سے تسلیم نہیں کرتے، صوبائی سطح پر احساسِ محرومی کا خاتمہ مشکل ہوگا۔ متوقع ہے کہ اس سفارش کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں اس معاملے پر مزید اہم مباحثے ہوں گے اور صوبائی خودمختاری کے قانونی دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی۔