LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب کے دفاعی نظام اور حوثی حملوں کا تجزیہ

News Image
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی باغیوں کی جانب سے ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں نے سعودی عرب کے مہنگے ترین دفاعی نظام کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں سکیورٹی کے طویل مدتی خطرات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
حالیہ عسکری تجزیوں اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے مسلسل حملوں نے سعودی عرب کے وسیع اور مہنگے ترین عسکری ہتھیاروں کی حدود اور کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ فنانشل ٹائمز اور سی این این سمیت اہم عالمی جریدوں میں اس بات پر روشنی ڈ डाली گئی ہے کہ کس طرح اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود سعودی عرب اپنے اہم تنصیبات کو مکمل طور پر محفوظ نہیں بنا سکا۔ یہ صورتحال مملکت کی دفاعی حکمت عملی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کی مبینہ پشت پناہی سے کام کرنے والے عسکریت پسند مسلسل سعودی ولی عہد پر دباؤ بڑھا رہے ہیں اور جدید میزائلوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سکیورٹی نظام کو چیلنج کر رہے ہیں۔ سعودی حکومت نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے دنیا بھر سے جدید ترین عسکری ساز و سامان خریدا ہے، تاہم کم فاصلے کے غیر روایتی اور کم لاگت حملوں کے خلاف یہ مہنگا دفاعی نظام اکثر اوقات ناکافی ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین جیو پولیٹیکل فیوچرز کے مطابق حوثی باغی طویل مدت تک سعودی سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنے رہیں گے۔ روایتی جنگی ساز و سامان رکھنے والی فوج کے لیے اس طرح کی گوریلا اور ہائبرڈ جنگی حکمت عملی کا مقابلہ کرنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ خطے میں جاری اس کشیدگی نے نہ صرف عسکری ماہرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے بلکہ سعودی پالیسی سازوں کے لیے بھی نئے لائحہ عمل کی تشکیل کو ناگزیر بنا دیا ہے۔