World
گاڑیوں کی چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات اور پولیس کو درپیش مشکلات
برطانوی پولیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ جدید آلات استعمال کرنے والے کار چوروں کے سامنے افسران کی کمی اور وسائل کی قلت کی وجہ سے وہ کارروائیوں میں مشکلات کا شکار ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ہر چار منٹ میں ایک گاڑی چوری ہونے کے بعد پولیس کے لیے اس جرم پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
برطانیہ میں گاڑیوں کی چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک انتہائی پیچیدہ صورتحال پیدا کر دی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک بھر میں اوسطاً ہر چار منٹ بعد ایک گاڑی چوری ہو جاتی ہے۔ پولیس حکام نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ان کے محکمے کو شدید وسائل کی کمی کا سامنا ہے اور وہ ان پیشہ ور اور انتہائی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے مجرموں کا مقابلہ کرنے میں مشکلات محسوس کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ دور کے کار چور روایتی طریقوں کے برعکس اب جدید ترین برقی آلات، سگنل ریلے بکسز اور ہیکنگ ٹولز کا استعمال کرتے ہیں، جن کی مدد سے وہ چند ہی سیکنڈز میں مہنگی گاڑیوں کو اسٹارٹ کر کے لے اڑتے ہیں۔ اس قسم کی جدید وارداتوں نے پولیس کی روایتی تفتیشی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ پولیس فورس پر کام کا بوجھ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے، اور عملے کی کمی کے باعث ہر واقعے پر فوری ردعمل دینا یا گاڑیوں کی بازیابی کے لیے چھاپے مارنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
پولیس یونٹس کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے نہ صرف مزید نفری کی ضرورت ہے بلکہ ایسی نئی تکنیکی پالیسیاں بھی اپنانی ہوں گی جو ان منظم جرائم پیشہ گروہوں کی جڑیں کاٹ سکیں۔ دوسری جانب کار مالکان میں بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ ان کی قیمتی املاک دن دہاڑے یا گھروں کے باہر سے سیکنڈوں میں غائب ہو رہی ہیں۔ حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ گاڑیوں کی حفاظت کے لیے فیکٹری سے آنے والے سیکیورٹی سسٹمز کے ساتھ ساتھ اضافی مکینیکل تالے اور ٹریکنگ ڈیوائسز کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ چوروں کے لیے کام مزید مشکل بنایا جا سکے۔