LIVE
Loading Breaking News...

گریسک کی آبادیاتی منصوبہ بندی اور کچی آبادیوں کا خاتمہ

News Image
انڈونیشیا کے وزیرِ بنیادی ڈھانچہ اور علاقائی ترقی اگوس ہاردیمورتیا یودھویونو نے گریسک کے پائیدار ماڈل کو پورے ملک سے کچی آبادیوں کے خاتمے کے لیے کلیدی قرار دیا ہے۔ یہ ماڈل غریب علاقوں میں رہائشی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے ایک بہترین مثال بن سکتا ہے۔
انڈونیشیا کے وزیرِ بنیادی ڈھانچہ اور علاقائی ترقی، اگوس ہاردیمورتیا یودھویونو (اے ایچ وائی) نے کہا ہے کہ گریسک ریجنسی میں کی جانے والی آبادیاتی اور رہائشی منصوبہ بندی پورے ملک سے کچی آبادیوں کے خاتمے کے لیے ایک موثر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات مشرقی جاوا کے علاقے گریسک کے کیمپوریجو گاؤں میں ترقیاتی منصوبوں کے معائنے کے دوران کہی، جہاں حکومت کی جانب سے رہائشی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیرِ موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی اداروں کو مقامی سطح پر ایسی جامع منصوبہ بندی کرنی چاہیے جو نہ صرف غریب طبقے کو معیاری رہائش فراہم کرے بلکہ وہاں صفائی، نکاسی آب اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات بھی بلا تعطل میسر ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ گریسک کا یہ ماڈل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح عوامی اور نجی شعبے کی شراکت داری سے پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کیا جا سکتا ہے اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بلند کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کی اس نئی حکمت عملی کا مقصد انڈونیشیا کے مختلف شہروں میں بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے دباؤ کو کم کرنا اور غیر قانونی یا غیر معیاری بستیوں کو منظم رہائشی زونز میں تبدیل کرنا ہے۔ اے ایچ وائی کے مطابق، اس ماڈل کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسی طرز پر کام شروع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ آنے والے برسوں میں انڈونیشیا کو کچی آبادیوں سے پاک کیا جا سکے۔