LIVE
Loading Breaking News...

روسی حملے: یوکرین میں چھ لاکھ افراد بجلی سے محروم، زیلنسکی کا بیان

News Image
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بتایا ہے کہ رات بھر ہونے والے روسی فضائی حملوں کے نتیجے میں اہم تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان حملوں کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں چھ لاکھ سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ رات کے وقت ہونے والے شدید روسی فضائی حملوں نے ملک کے مختلف حصوں میں بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان حملوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ توانائی کے اہم ذرائع اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں تقریباً چھ لاکھ صارفین بجلی کی سہولت سے محروم ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق اس اچانک اور بڑے پیمانے پر ہونے والی بجلی کی بندش سے عام شہریوں کی زندگیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور روزمرہ کے امورِ زندگی میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔ یوکرینی ہنگامی خدمات کے اداروں کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں ریسکیو اور امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان تازہ ترین حملوں میں اب تک کم از کم تین افراد کے ہلاک ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ متعدد دیگر کے زخمی ہونے کا خدشہ ہے۔ امدادی ٹیمیں ملبے کو ہٹانے اور نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے مسلسل مصروفِ عمل ہیں۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے ایک بیان میں بین الاقوامی برادری سے اپورت کی ہے کہ وہ اس کٹھن وقت میں یوکرین کے ساتھ کھڑی ہو اور ملک کے توانائی کے نظام کو بحال کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مدد فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن جان بوجھ کر سرد موسم سے پہلے عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ انسانی بحران کو مزید گہرا کیا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کی توانائی کی تنصیبات پر مسلسل حملے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ملک کے دفاعی اور انتظامی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے یوکرین کے مختلف شہروں میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں اور پاور گرڈز کی فوری مرمت کا کام ترجیحی بنیادوں پر شروع کر دیا گیا ہے۔