LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب میں فیس بک کمنٹ پر سزائے موت کا فیصلہ کالعدم

News Image
سعودی عرب نے فیس بک پر توہین آمیز تبصرہ کرنے کے جرم میں سزائے موت پانے والے سری لنکن شہری انوجن سیواراسا کی سزا ختم کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد سفارتی حلقوں اور متاثرہ خاندان نے اطمینان کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس کیس نے سری لنکا میں شدید تشویش پیدا کر دی تھی۔
سعودی عرب کی جانب سے ایک اہم انسانی ہمدردی کے فیصلے کے تحت فیس بک پر مبینہ توہین آمیز تبصرہ کرنے کے الزام میں سزائے موت کا سامنا کرنے والے سری لنکن شہری انوجن سیواراسا کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس عدل و انصاف پر مبنی فیصلے سے نہ صرف سزائے موت پانے والے شخص کی زندگی بچ گئی ہے بلکہ اس کے اہل خانہ اور سری لنکا کے عوام نے بھی گہرے سکون کا سانس لیا ہے۔ انوجن سیواراسا کا یہ سنگین نوعیت کا کیس گزشتہ کچھ عرصے سے سری لنکا میں انتہائی زیر بحث رہا تھا اور اس نے پورے ملک میں ایک طوفان کھڑا کر دیا تھا۔ اس کیس کے سامنے آنے کے بعد سری لنکا کے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی، جس کے بعد حکومتِ سری لنکا نے اس معاملے پر فوری طور پر سفارتی سطح پر رابطہ کاری کا آغاز کیا۔ سفارتی کوششوں کا مقصد سعودی حکام سے رابطہ کر کے رحم کی اپیل کرنا اور کسی انسانی بنیادوں پر سزا میں تخفیف یا معافی حاصل کرنا تھا۔ سعودی عرب کی عدالت کی طرف سے اس سزائے موت کو ختم کیے جانے کے اس خوش آئند اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور سفارتی تعاون کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ انوجن سیواراسا سے متعلق تمام قانونی اور انتظامی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد انہیں جلد ہی ان کے وطن واپس جانے کی اجازت دے دی جائے گی، جہاں ان کا خاندان ان کے استقبال کا منتظر ہے۔