Entertainment
ہانگ کانگ میں ونسنٹ وین گو کی نایاب پینٹنگ کی ساٹھ سال بعد نمائش
ہانگ کانگ میں وین گو کی نایاب پینٹنگ 'Châtaigniers en fleurs' کو پہلی بار ساٹھ سال میں عوام کی نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ اس تاریخی موقع پر شائقین کی بڑی تعداد نے قطاروں میں کھڑے ہو کر فن پارے کا نظارہ کیا۔
ہانگ کانگ میں مشہور مصور ونسنٹ وین گو کی ایک انتہائی نایاب اور شاندار پینٹنگ کو پہلی بار ساٹھ سال میں عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ اس تاریخی لمحے کو دیکھنے کے لیے ہانگ کانگ کے آرٹ شائقین کی بڑی تعداد نے نمائش گاہ کے باہر طویل قطاریں لگا لیں۔ یہ فن پارہ دنیا بھر کے فن دوستوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور لوگ اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب دکھائی دیے۔
اس شاہکار پینٹنگ کا نام 'Châtaigniers en fleurs' ہے، جسے 'Chestnut Trees in Blossom' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ماہرینِ فن کا ماننا ہے کہ یہ پینٹنگ فنی لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ونسنٹ وین گو کے منفرد اندازِ مصوری کی عکاسی کرتی ہے۔ ساٹھ سال تک پردہ خفا میں رہنے کے بعد اس پینٹنگ کا اس طرح عوام کے سامنے آنا فنونِ لطیفہ کی دنیا میں ایک بہت بڑا واقعہ مانا جا رہا ہے۔
متعلقہ ذرائع اور آرٹ مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق، اس پینٹنگ کو اس ہفتے کے آخر میں نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ پینٹنگ نیلامی کے دوران تمام پرانے ریکارڈ توڑ دے گی اور اس پر انتہائی اونچی اور ریکارڈ بولیاں لگائی جائیں گی۔ بین الاقوامی سرمایہ کار اور آرٹ کلیکٹرز اس نیلامی میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر پہنچ رہے ہیں۔
ہانگ کانگ میں اس نمائش نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی آرٹ سے محبت کرنے والوں کو متوجہ کیا ہے۔ وین گو کے کام کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور ان کے کام کی قدرتی جھلک دیکھنے کے لیے اس طرح کے مواقع شائقین کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں ہیں۔ انتظامیہ نے شائقین کی بڑی تعداد کو سنبھالنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں تاکہ ہر کوئی اس تاریخی فن پارے کو باآسانی دیکھ سکے۔