LIVE
Loading Breaking News...

مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی اور اسرائیلی انتخابات

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی انتخابات سے ان کی روزمرہ زندگی پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑے گا۔ ان کا ماننا ہے کہ اسرائیلی سیاسی عمل میں انہیں یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں رہنے والے فلسطینیوں کے لیے اسرائیلی انتخابات کا عمل ہمیشہ سے بے معنی اور بے اثر رہا ہے۔ خطے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں چاہے کوئی بھی حکومت اقتدار میں آئے، ان کی زندگیوں پر قابض افواج کے جبر اور پابندیوں کا اثر جوں کا توں رہتا ہے۔ اس صورتحال نے فلسطینیوں میں یہ احساس گہرا کر دیا ہے کہ انہیں اسرائیلی سیاسی نظام میں مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ مغربی کنارے کے عام شہریوں کا یہ ماننا ہے کہ اسرائیلی سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہمات میں فلسطینیوں کے حقوق یا ان کے مستقبل کے بارے میں کوئی مثبت ایجنڈا نہیں رکھتی ہیں۔ انتخابات کے نتائج سے قطع نظر، روزمرہ کی زندگی میں فوجیچیک پوسٹس، زمینوں کی ضبطی اور نقل و حرکت پر پابندیاں معمول بنی رہتی ہیں۔ اس سیاسی بے دخلی کی وجہ سے فلسطینی آبادی خود کو ایک ایسے خلا میں محسوس کرتی ہے جہاں ان کی بنیادی انسانی اور سیاسی آراء کی کوئی اہمیت تسلیم نہیں کی جاتی۔ بین الاقوامی مبصرین کا بھی کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں لاکھوں افراد اس قابض نظام کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو ان کی تقدیر کے فیصلے تو کرتا ہے لیکن انہیں اس عمل میں اپنا حق رائے دہی یا نمائندگی دینے سے انکار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اسرائیل میں پولنگ ہوتی ہے، مغربی کنارے کے فلسطینیوں میں امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی بلکہ وہ اس پورے عمل کو محض ایک تماشا سمجھتے ہیں جس سے ان کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔