World
چین اور شمالی کوریا دریائے یالو کا نیا پل کھولنے کے لیے تیار
چین اور شمالی کوریا کے درمیان طویل عرصے سے تاخیر کا شکار ہونے والا دریائے یالو کا نیا پل جمعرات کو باضابطہ طور پر کھول دیا جائے گا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق اس اہم منصوبے سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور نقل و حمل کے شعبوں میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
چین اور شمالی کوریا کے درمیان رابطوں کو مزید بہتر بنانے اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے دریائے یالو کا نیا پل باضابطہ طور پر جمعرات کے روز کھولا جا رہا ہے۔ چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ طویل عرصے سے تاخیر کا شکار پل اب آمدورفت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ اس منصوبے کا مقصد دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین زمینی راستے کو وسعت دینا اور معاشی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔
واضح رہے کہ اس پل کی تعمیر کا آغاز سالوں پہلے کیا گیا تھا تاہم مختلف تکنیکی وجوہات، سیاسی حالات اور سرحدی سکیورٹی کے معاملات کی وجہ سے اس کے افتتاح میں بارہا تاخیر واقع ہوئی۔ اب جبکہ تعمیراتی اور انتظامی امور کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، دونوں حکومتیں اسے باضابطہ طور پر کھولنے پر رضامند ہو گئی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نئے پل کے کھلنے سے سرحدی علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور دونوں ممالک کے تاجروں کو سہولتیں میسر آئیں گی۔
بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام چین اور شمالی کوریا کے درمیان قریبی تزویراتی تعلقات کا مظہر ہے۔ اس پل کے فعال ہونے سے نہ صرف مال برداری کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ مسافروں اور تجارتی قافلوں کی آمد و رفت بھی انتہائی محفوظ اور تیز رفتار ہو جائے گی۔ دونوں ممالک کی متعلقہ حکام نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ افتتاح کے پہلے روز تمام ایس او پیز اور حفاظتی انتظامات کو سختی سے نافذ کیا جائے تاکہ یہ تقریب اور اس کے بعد کا آپریشن خوش اسلوبی سے جاری رہ سکے۔