LIVE
Loading Breaking News...

اوپن اے آئی کے دفتر میں جاسوسی کا آلہ، سعودی نژاد انجینئر گرفتار

News Image
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے اپنے ایک دفتر سے خفیہ طور پر آواز ریکارڈ کرنے والا آلہ دریافت کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ اس واقعے کے سلسلے میں ایک سعودی نژاد سافٹ ویئر انجینئر کو حراست میں لے لیا گیا ہے جو کمپنی کے لیے کام کرتا تھا۔
مصنوعی ذہانت کی دنیا کی صف اول کی کمپنی اوپن اے آئی (OpenAI) کے دفاتر میں سیکیورٹی کی ایک انتہائی تشویشناک خلاف ورزی کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں سے ایک خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس برآمد کی گئی ہے۔ کمپنی کے اندرونی ذرائع کے مطابق یہ آلہ ایک دفتر کے اندر ٹیلی ویژن کے پیچھے ٹشو پیپر میں لپیٹ کر چھپایا گیا تھا تاکہ کسی کی نظر اس پر نہ پڑ سکے اور خاموشی سے راز افشا کیے جا سکیں۔ اس سیکیورٹی واقعے کے فورا بعد کمپنی نے اندرونی تحقیقات کا آغاز کیا اور سخت اقدامات اٹھائے۔ تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والے شواہد کی بنیاد پر ایک سعودی نژاد انجینئر کو حراست میں لے لیا گیا ہے جس پر اس خفیہ جاسوسی آلے کو نصب کرنے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ ڈیوائس کس مقصد کے لیے لگائی گئی تھی اور اس میں کون سی حساس معلومات منتقل کی جا رہی تھیں، اس بارے میں تفتیش کا عمل جاری ہے۔ اوپن اے آئی کی جانب سے تاحال اس بات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی کہ آیا اس آلے کے ذریعے کوئی اہم کارپوریٹ راز یا مصنوعی ذہانت کے ماڈلز سے جڑا ڈیٹا چرایا گیا ہے یا نہیں۔ تاہم، اس واقعے نے دنیا بھر کی بڑی ٹیک کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین کی سیکیورٹی، ڈیٹا کے تحفظ اور دفتر کے اندرونی نظام پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے اس دور میں جب کمپنیاں اربوں ڈالرز کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں، اس قسم کی اندرونی جاسوسی کے واقعات سیکورٹی پروٹوکولز کو سخت کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس کارروائی کے پیچھے کوئی اور گروہ یا فرد بھی شامل تھا یا نہیں۔