LIVE
Loading Breaking News...

جمہوری جمہوریہ کانگو میں امن: اقوام متحدہ کے نمائندے کا بیان

News Image
اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ جمہوری جمہوریہ کانگو میں امن کے حصول کے لیے اب بھی ایک اہم سفارتی موقع موجود ہے۔ انہوں نے سکیورٹی اور انسانی بحران کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باوجود سفارتی سطح پر ہونے والی پیشرفت کو سراہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک خصوصی ایلچی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ جمہوری جمہوریہ کانگو میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ابھی بھی ایک اہم موقع موجود ہے۔ اگرچہ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال اور انسانی بحران بدتر ہوتا جا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود سفارتی محاذ پر ہونے والی پیشرفت قابل تحسین ہے۔ اقوام متحدہ کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی برادری کانگو میں جاری پرتشدد کارروائیوں اور انسانی مصائب کو ختم کرنے کے لیے مسلسل دباؤ بڑھا رہی ہے۔ نمائندے نے زور دیا کہ علاقائی اور بین الاقوامی رہنماؤں کو اس سفارتی موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ کانگو کے مختلف علاقوں میں مسلح گروہوں کی کارروائیوں اور مقامی آبادی کی نقل مکانی نے صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے کروڑوں افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے حکام کا ماننا ہے کہ صرف عسکری ذرائع سے اس تنازع کا مستقل حل تلاش کرنا ممکن نہیں ہے، بلکہ سیاسی بات چیت اور سفارتی مذاکرات ہی پائیدار امن کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدوں پر عمل درآمد کریں اور خطے کے غوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند ہفتے اس بحران کے حل کے حوالے سے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ اگر سفارتی کوششیں بارآور نہ ہوئیں تو حالات مزید قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری اور علاقائی تنظیمیں اس بات پر متفق ہیں کہ کانگو کے عوام طویل عرصے سے جنگ اور تشدد کا شکار چلے آ رہے ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر ایک جامع لائحہ عمل تیار کریں۔ اقوام متحدہ نے یقین دلایا ہے کہ وہ امن کے اس عمل میں کانگو کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گا تاکہ ملک کو ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔