LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل نے یونان کو قدیم چوری شدہ نوادرات واپس کر دیے

News Image
اسرائیل نے یونان کے ساتھ اپنے مضبوط ہوتے ہوئے سفارتی تعلقات کا اظہار کرتے ہوئے بائیس قدیم نوادرات واپس کر دیے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے کے اس اقدام کو دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے یونان کے ساتھ اپنے بڑھتے ہوئے اور مستحکم سفارتی تعلقات کے تناظر میں بائیس قدیم نوادرات واپس یونان کے حوالے کر دیے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور تاریخی ورثے کے تبادلے کے اس اقدام کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور اسے دونوں حکومتوں کے مابین قریبی شراکت داری کا ایک اور عملی ثبوت قرار دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ نوادرات تاریخی اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کی واپسی یونان کے لیے ایک بڑا تہذیبی اور ثقافتی لمحہ ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور یونان کے مابین مختلف شعبوں بالخصوص معیشت، دفاع اور ثقافت میں تعاون تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام اور باہمی مفادات کے فروغ کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس ثقافتی تبادلے سے نہ صرف دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطہ مضبوط ہوگا بلکہ تاریخی اور آثار قدیمہ کے تحفظ کے شعبے میں بھی نئی راہیں کھلیں گی۔ واپس کیے جانے والے ان نوادرات کی تفصیلات کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ تاریخی ورثہ طویل عرصے سے اسرائیل میں موجود تھا، جسے اب باضابطہ طور پر یونانی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یونانی وزارتِ ثقافت نے اس قدم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کا مظہر قرار دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے اقدامات سے بین الاقوامی سطح پر ثقافتی ورثے کے تحفظ اور غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام میں بھی مدد ملتی ہے۔