LIVE
Loading Breaking News...

سൗدی عرب پر میزائل حملے، ریاض اور ظہران میں فضائی دفاعی نظام متحرک

News Image
سൗدی عرب کے حکام نے دارالحکومت ریاض اور ظہران پر فائر کیے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حملے کے دوران گرنے والے ملبے سے متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سൗدی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے دارالحکومت ریاض اور اہم اقتصادی مرکز ظہران کی طرف فائر کیے جانے والے متعدد میزائلوں کو فضا میں ہی کامیابی کے ساتھ روک کر تباہ کر دیا۔ حکام کی جانب سے دی جانے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب خطے میں کشیدگی اور عسکری محاذ آرائی میں نمایاں تیزی آ چکی ہے۔ اس واقعے کے بعد دونوں شہروں میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں اور متعلقہ ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ میزائلوں کے ٹکڑے فضا میں تباہ ہونے کے بعد زمین پر مختلف رہائشی اور تجارتی علاقوں میں آگرے۔ گرنے والے اس ملبے کی زد میں آ کر چند عام شہری معمولی سے لے کر درمیانے درجے تک زخمی ہو گئے ہیں جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ اس واقعے کے نتیجے میں املاک کو بھی کچھ نقصان پہنچا ہے جس کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں سے ملبہ ہٹانے کے کام میں مصروف ہیں۔ حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب کے مختلف حصوں پر ہونے والے ان حملوں نے خطے میں امن کی کوششوں کو ایک بار پھر چیلنج کر دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور علاقائی طاقتیں اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا مکمل حق رکھتے ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔