Politics
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ، قومی اسمبلی میں اہم اجلاس طلب
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں اندرونی بدامنی اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں صدرِ مملکت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کر لیے ہیں تاکہ صوبے میں آئینی صورتحال پر پارلیمانی منظوری لی جا سکے۔
وفاقی دارالحکومت میں ہونے والی اہم سیاسی پیشرفت کے دوران قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اندرونی بدامنی اور سنگین سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد صوبے کے اندر بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے موثر انداز میں نمٹنا ہے۔ وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے رویے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ موجودہ رویہ ملکی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مرکز کو صوبے میں امن بحال کرنے کے لیے سخت اور فوری نوعیت کے آئینی اقدامات اٹھانا پڑ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس طلب کر لیے ہیں تاکہ ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبے سے متعلق دیگر آئینی امور کی باضابطہ منظوری حاصل کی جا سکے۔ دوسری جانب قومی اسمبلی کے اس اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے شدید احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو اجلاس کی کارروائی چلانے کے دوران اپوزیشن کے نعرے بازی اور شدید ہنگامہ آرائی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم حکومتی بینچز نے واضح کیا کہ ملکی سلامتی اور صوبے میں امن و امان کا قیام موجودہ وقت کی سب سے اہم ترجیح ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ماہرینِ قانون کے مطابق آئین کے تحت اندرونی بدامنی کی صورت میں وفاقی حکومت کو مخصوص اختیارات حاصل ہیں جن کے ذریعے وہ صوبائی معاملات میں مداخلت کر کے ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے آئینی اقدامات نافذ کر سکتی ہے تاکہ ریاست کی رٹ کو برقرار رکھا جا سکے۔