LIVE
Loading Breaking News...

بلاول بھٹو کی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے اہم پیشکش

News Image
چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف سنجیدہ سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہو تو وہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے وزیراعظم سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت کے بحران کی تمام تر ذمہ داری پی ٹی آئی کی قیادت پر عائد کرتے ہوئے اسے سیاسی خود کش حملہ قرار دیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف سنجیدہ سیاسی اور پارلیمانی مذاکرات کے راستے پر چلنے پر رضامند ہو جائے تو وہ خیبر پختونخوا میں نافذ ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے وزیراعظم پاکستان سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کرنے اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو باضابطہ مذاکرات کا حصہ بننا چاہیے۔ بلاول بھٹو کے مطابق اس وقت صوبے میں جو آئینی و سیاسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، اس سے عام عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اس بحران کا حل صرف اور صرف افہام و تفہیم اور بات چیت میں ہی مضمر ہے۔ دوسری جانب، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال اور صوبائی حکومت کے بحران پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ تحریک انصاف نے اپنی ہی صوبائی حکومت پر سیاسی خود کش حملہ کیا ہے جس کی وجہ سے یہ بحران پیدا ہوا۔ ان کا ماننا تھا کہ کے پی حکومت کی اپنی غلط حکمت عملی اور جارحانہ سیاسی رویے نے صوبے کو اس نہر پر لا کھڑا کیا جہاں ایمرجنسی اور گورنر راج جیسے سخت اقدامات کے امکانات پر کھل کر بحث کی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نے مزید کہا کہ صوبے کی قیادت کو ذاتی یا پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ ادھر ملک کے دیگر سیاسی حلقوں میں بھی خیبر پختونخوا کی تازہ ترین صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے اور مختلف رہنماؤں کی جانب سے اس بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے آئینی اور قانونی پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے۔ تاہم، بلاول بھٹو کی اس نئی پیشکش نے ایک بار پھر سیاسی گلی محلوں میں ہلچل مچا دی ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف اس پیشکش پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے اور کیا آنے والے دنوں میں دونوں بڑی سیاسی جماعتیں کسی ممکنہ مذاکراتی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہوتی ہیں یا نہیں۔