LIVE
Loading Breaking News...

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کیوں بڑھیں؟ مشرق وسطیٰ کی صورتحال

News Image
مشرق وسطیٰ میں ایران کے حامی حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ خلیجی خطے میں سپلائی کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں نئے حربوں نے توانائی کی مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب کے تناظر میں پیش آنے والے واقعات ہیں۔ ایرانی حمایت یافتہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے حملوں اور خطے میں سپلائی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے مبینہ طور پر نئے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، جس سے توانائی کی عالمی سپلائی لائن کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کے براہ راست اثرات مارکیٹ پر مرتب ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب، روس اور یوکرین کے تنازع اور امریکی ڈیزل کے سودوں کے حوالے سے بھی مارکیٹ میں ملے جلے رجحانات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ کچھ تجارتی رپورٹس میں روسی ڈیزل کی بہتر سپلائی کے امکانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو خلیجی خطے کے سپلائی خدشات کا کسی حد تک ازالہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ کا تنازع اب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی سب سے بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں جاری کشیدگی میں کمی نہ آئی تو آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ حکومتیں اور تجارتی ادارے اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا سکیں۔