LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں مہنگائی کی شرح ستمبر میں تیز، کور سی پی آئی میں بھی اضافہ

News Image
امریکہ میں ستمبر کے مہینے میں صارفین کی اشیاء کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر تین اعشاریہ سات فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کی بڑی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی بتائی جا رہی ہے۔
امریکہ میں ستمبر کے دوران صارفین کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق ستمبر کے مہینے میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح تین اعشاریہ سات فیصد تک پہنچ گئی۔ اس اضافے نے فیڈرل ریزرو کے لیے مانیٹری پالیسی کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کیونکہ مہنگائی کے یہ اعداد و شمار توقعات سے زیادہ گرم بتائے جا رہے ہیں۔ پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کا براہ راست اثر عام صارف کے روزمرہ کے اخراجات پر پڑا ہے۔ اس صورتحال نے ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب کور سی پی آئی (بنیادی مہنگائی)، جس میں خوراک اور توانائی کے متغیر شعبوں کو نکال دیا جاتا ہے، وہ بھی کافی مضبوط رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اعداد و شمار سے امریکی ڈالر کے نیچے موجود سہارا مزید مضبوط ہوگا کیونکہ اس سے اس بات کے قوی امکانات پیدا ہو جاتے ہیں کہ مرکزی بینک سود کی شرح کو طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رکھ سکتا ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی ان اعداد و شمار کو بہت غور سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کا اثر عالمی معیشت اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر پڑتا ہے۔ اقتصادی ماہرین اب اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا فیڈرل ریزرو آنے والے اجلاسوں میں شرح سود میں مزید اضافہ کرے گا یا پھر موجودہ بلند سطح کو ہی برقرار رکھا جائے گا۔ حکومت اور معاشی محکمے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے.