LIVE
Loading Breaking News...

سرکاری ملازم نے بیک وقت پانچ نوکریاں کرنے کے لیے بیماری کا ڈراما رچایا

News Image
برطانیہ میں ایک سرکاری ملازم پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے گھر سے کام کی سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بیک وقت پانچ ملازمتیں کیں۔ ملزم نے اپنی ایک نوکری میں چھٹی لینے کے لیے میک اپ کے ذریعے خود کو بیمار ظاہر کیا۔
برطانیہ میں ایک انتہائی دلچسپ اور انوکھا دھوکہ دہی کا معاملہ عدالت میں سامنے آیا ہے جہاں ایک سرکاری ملازم پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے گھر سے کام (ورک فرام ہوم) کرنے کی سہولت کا غلط استعمال کرتے ہوئے بیک وقت پانچ مختلف نوکریاں کیں۔ کاتم چوہدری نامی اس ملازم کے بارے میں عدالت کو بتایا گیا کہ اس نے اپنی صلاحیتوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے سرکاری محکمے کے ساتھ ساتھ دیگر نجی اداروں میں بھی کام جاری رکھا تاکہ زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کیا جا سکے جب کہ وہ اصل میں اپنی بنیادی نوکری کو بھی پورا وقت نہیں دے رہا تھا۔ عدالت میں کی جانے والی سماعت کے دوران استغاثہ نے انکشاف کیا کہ ملزم کاتم چوہدری نے نہ صرف بیک وقت متعدد ملازمتیں کیں بلکہ اپنی غیر حاضری کو چھپانے کے لیے انتہائی چالاکی کا مظاہرہ کیا۔ ایک موقع پر جب اسے اپنی ایک نوکری سے چھٹی درکار تھی اور وہ فرضی بیماری ظاہر کرنا چاہتا تھا، تو اس نے میک اپ کا استعمال کیا۔ اس نے اپنے چہرے پر اس طرح کا رنگ روغن اور حلیہ بنایا تاکہ وہ ویڈیو کال یا آن لائن میٹنگ کے دوران شدید بیمار یا کمزور نظر آئے، اور اس طرح اپنے باسز اور محکمے کو دھوکہ دے کر رخصت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس فراڈ کا انکشاف اس وقت ہوا جب متعلقہ حکام کو ملازم کی مشکوک سرگرمیوں اور مختلف اداروں میں بیک وقت موجودگی پر شک ہوا۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد معاملے کو باقاعدہ قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس انوکھے طریقے سے کیے جانے والے فراڈ کی تفصیلات سن کر تمام لوگ دنگ رہ گئے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ گھر سے کام کرنے کے کلچر میں اس قسم کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم یہ کیس اپنی نوعیت کا پہلا اور انوکھا ہے جہاں میک اپ کا استعمال کر کے بیماری کا ناٹک رچایا گیا۔ فی الحال عدالت میں اس مقدمے کی مزید سماعت جاری ہے اور ملزم پر عائد کردہ الزامات کی باقاعدہ جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس کیس کے فیصلے کے بعد گھر سے کام کرنے والے ملازمین کے لیے قوانین کو مزید سخت کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دھوکے سے بچا جا سکے۔ حکومتی اداروں کی طرف سے بھی اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ ملازمین کی کارکردگی اور حاضری کو مانیٹر کرنے کے لیے مزید مؤثر ڈیجیٹل نظام متعارف کروائے جائیں۔