World
چین میں تنہائی کی معیشت: عارضی بچوں کی خدمات کا آغاز
چین میں تنہائی کی معیشت تیزی سے فروغ پا رہی ہے جہاں بوڑھے افراد کی دیکھ بھال اور صحبت کے لیے نوجوانوں کو بطور 'عارضی بچے' کرائے پر حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس نئی صنعت کا مقصد معاشرے میں بڑھتے ہوئے اکیلے پن کے احساس کو کم کرنا اور بزرگوں کو جذباتی سہارا فراہم کرنا ہے۔
چین میں ایک نئی اور دلچسپ صنعت ابھر کر سامنے آئی ہے جسے ماہرین 'تنہائی کی معیشت' کا نام دے رہے ہیں۔ اس نئے رجحان کے تحت چین کے تنہا اور بزرگ افراد ایسے نوجوانوں کو خدمات کے عوض معاوضہ دے کر کرائے پر حاصل کر رہے ہیں جو ان کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور انہیں ایک خاندان جیسا ماحول فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور کی مصروفیت اور خاندانی نظام میں تبدیلیوں کی وجہ سے چین میں بزرگوں کی ایک بڑی تعداد اکیلے پن کا شکار ہو رہی ہے، جس کے حل کے طور پر اس انڈسٹری نے تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے۔
اس نظام کے تحت 'عارضی بچے' کہلانے والے یہ نوجوان بزرگوں کے ساتھ چہل قدمی کرتے ہیں، ان کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں، ان کی طبی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں اور مختلف امور میں ان کا ہاتھ بٹاتے۔ اس طرح نہ صرف بزرگوں کو تنہائی سے نجات ملتی ہے بلکہ انہیں ذہنی سکون بھی میسر آتا ہے۔ دوسری طرف، بے روزگار یا جز وقتی کام کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے یہ روزگار کا ایک نیا ذریعہ بن گیا ہے جو وہ بزرگوں کی صحبت اختیار کر کے حاصل کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان دراصل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید معاشروں میں انسانی تعلقات اور خاندانی اقدار کس طرح تبدیل ہو رہی ہیں۔ جہاں ایک طرف تکنیکی ترقی نے لوگوں کو قریب کیا ہے، وہیں دوسری طرف انسانوں کے درمیان جذباتی فاصلے بھی بڑھ گئے ہیں۔ چین کی یہ نئی 'تنہائی کی معیشت' اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اب تجارتی بنیادوں پر انسانی تعلقات کی خریداری کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔