LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی معیشت اور بجٹ: آئی ایم ایف کی تعریف کے معنی

News Image
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعلیٰ حکام کی جانب سے برطانوی معیشت اور قرضوں میں کمی کے منصوبوں کی غیر متوقع طور پر تعریف کی گئی ہے۔ اس حیرت انگیز تحسین سے برطانوی بجٹ کی سمت اور مالیاتی پالیسیوں کے بارے میں اہم اشارے ملتے ہیں۔
برطانوی معیشت کے حوالے سے حالیہ دنوں میں ایک انتہائی دلچسپ اور غیر متوقع صورتحال سامنے آئی ہے، جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعلیٰ ترین حکام نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تین الگ الگ مواقع پر برطانوی حکومت کے ان منصوبوں کی بھرپور تعریف کی ہے جن کا مقصد سالانہ بنیادوں پر ملک میں قرض لینے کی سطح کو کم کرنا ہے۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تعریف عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے برطانوی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا ایک بڑا اظہار ہے، جو عام طور پر سخت اور محتاط مالیاتی نظم و ضبط کے حامی ہوتے ہیں۔ اس اچانک اور حیرت انگیز ستائش کے بعد برطانوی بجٹ کے حوالے سے کی جانے والی پیشگوئیوں میں بھی ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں اور معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کو اپنے آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں اور اخراجات کے حوالے سے فیصلے کرنے میں اس بین الاقوامی حمایت سے بڑی مدد ملے گی۔ آئی ایم ایف کی جانب سے قرضوں میں کمی کے اہداف کی سراہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانوی وزارتِ خزانہ کی موجودہ سمت درست ہے اور یہ معاشی استحکام کی جانب ایک قدم ہے۔ تاہم، اس تمام صورتحال کے باوجود برطانوی عوام اور سیاسی حلقوں میں مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ کو لے کر اب بھی شدید بحث جاری ہے۔ عام شہریوں کی توقعات اس بات پر مرکوز ہیں کہ معاشی اشاریوں کی بہتری اور عالمی اداروں کی تعریف کا عملی فائدہ عام آدمی تک کیسے پہنچے گا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا یہ حکومتی پالیسیاں روزمرہ کی زندگی میں مہنگائی پر قابو پانے اور معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے میں کتنی مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔