Business
امریکہ میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ، تازہ ترین اقتصادی صورتحال
ستمبر تک سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی رفتار بڑھ کر 3.7 فیصد ہو گئی ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ موٹر فیول کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
امریکہ میں وسطی انتخابات سے بالکل پہلے مہنگائی کی رفتار میں ایک بار پھر تیزی دیکھی گئی ہے اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کی شرح توقع سے زیادہ بلند ہو گئی ہے۔ ستمبر کے مہینے تک سالانہ بنیادوں پر قیمتوں میں اضافے کی رفتار 3.7 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ معاشی ماہرین اس صورتحال کو ملک کے موجودہ اقتصادی منظرنامے کے لیے ایک اہم چالش قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔
اس نئی اقتصادی رپورٹ کے مطابق، مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجہ موٹر فیول کی لاگت میں ہونے والا نمایاں اضافہ ہے۔ ایندھن کی قیمتیں مہنگی ہونے کی وجہ سے عام اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر چیزوں کی نقل و حمل پر بھی منفی اثر پڑا ہے، جس کا براہ راست بوجھ عام صارفین کی جیبوں پر پڑ رہا ہے۔ شہری پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا شکار تھے اور حالیہ اعداد و شمار نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کا یہ بڑھتا ہوا گراف آنے والے وسطی انتخابات کے نتائج پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ حکموت مخالف جماعتیں بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی پر قابو نہ پانے کی بنیاد پر موجودہ انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ دوسری طرف معاشی پالیسی ساز اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح ایندھن کی قیمتوں میں استحکام لا کر افراط زر کی شرح کو روکا جائے تاکہ معیشت کو مزید دباؤ سے بچایا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے