World
ماریشس میں بدترین فسادات، پولیس فائرنگ کے بعد کرفیو نافذ
پانی کی قلت کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس کی فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت کے بعد ماریشس میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ وزیراعظم نوین رام غلام نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے ملک میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
جزیرہ نما ملک ماریشس میں حالیہ دنوں کے دوران تاریخ کے بدترین فسادات اور ہنگامے دیکھنے میں آئے ہیں، جن کی وجہ سے ملک کا نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ تمام تر کشیدگی اور احتجاجی تحریک اس وقت شروع ہوئی جب شہریوں کو شدید پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف عوام نے سڑکوں کا رخ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس صورتحال کو کنٹرول کرنے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے ایک خاتون کی ہلاکت نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ خاتون کی موت کی خبر پھیلتے ہی ملک کے مختلف حصوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور مظاہرین بے قابو ہو گئے۔ مشعال مظاہرین نے املاک کو نقصان پہنچایا اور سڑکوں پر ٹائر جلائے، جس سے امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی۔ بڑھتے ہوئے ہنگاموں اور عوامی غصے کے پیشِ نظر ملک کے وزیراعظم نوین رام غلام نے فوری طور پر سخت قدم اٹھاتے ہوئے پورے ملک میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومتی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور گھروں کے اندر رہیں تاکہ سکیورٹی فورسز حالات پر قابو پا سکیں۔ اس وقت ملک بھر میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دستے گشت کر رہے ہیں اور حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ماریشس کی تاریخ میں حالیہ چند دہائیوں کے دوران یہ بدترین عوامی احتجاج ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے حکومت کو ہنگامی اقدامات کا سہارا لینا پڑا ہے۔ صورتحال اب بھی کشیدہ لیکن سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں بتائی جاتی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے پانی کی فراہمی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی فوری اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔