LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی امیدوار اور فلسطینی ریاست کا قیام - اہم تجزیہ

News Image
اسرائیلی سیاسی منظرنامے میں فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں مختلف امیدواروں کے موقف اور ان کی سیاسی پالیسیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
اسرائیلی سیاسی منظرنامے میں فلسطینی ریاست کا قیام ہمیشہ سے ایک انتہائی پیچیدہ اور متنازع موضوع رہا ہے۔ جب بھی اسرائیل میں انتخابی گہما گہمی ہوتی ہے، یہ سوال شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ آیا کوئی بھی نمایاں امیدوار یا سیاسی رہنما دو ریاستی حل یا ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں دائیں بازو کی جماعتیں اور سخت گیر مؤقف رکھنے والے رہنما عام طور پر فلسطینی ریاست کے قیام کی کھل کر مخالفت کرتے ہیں اور اسے ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ دوسری طرف، اسرائیل کے معتدل اور بائیں بازو کے چند سیاسی حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں کے دوران اسرائیلی معاشرے میں سیکورٹی خدشات اور سیاسی رجحانات کے باعث دو ریاستی حل کے حامی سیاستدانوں کا اثر و رسوخ کافی حد تک محدود ہو چکا ہے۔ بیشتر امیدوار ملکی سلامتی اور دفاع کو اپنی مہم کا بنیادی نکتہ بناتے ہیں، جس کی وجہ سے فلسطینی ریاست کا معاملہ اکثر پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مغربی ممالک طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے کا واحد پائیدار حل دو آزاد ریاستوں کا قیام ہے۔ اس کے باوجود، اسرائیلی انتخابی سیاست میں اس نعرے یا پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تیار دکھائی دینے والے بڑے رہنماؤں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ انتخابی میدان میں موجود امیدواروں کے بیانات کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمینی حقائق اور اندرونی سیاسی دباؤ کے پیش نظر اس حساس موضوع پر احتیاط سے قدم اٹھاتے ہیں۔ مجموعی طور پر، اگرچہ کچھ سیاسی شخصیات امن مذاکرات کی بحالی کی بات کرتی ہیں، لیکن ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے باضابطہ قیام کی حمایت کرنے والے سرکردہ امیدواروں کی کمی بدستور برقرار ہے۔ مشرق وسطیٰ کے اس دیرینہ تنازعے کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ آنے والے وقت میں اسرائیلی قیادت اس بنیادی سفارتی اور انسانی مسئلے پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور عالمی دباؤ کا کیا جواب دیتی ہے۔